انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 72 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 72

انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۲) ہونا چاہئے اور جو نیک اور پسندیدہ باتیں ہیں ان کا لوگوں کو حکم دو اور اگر کوئی تمہیں غصہ دلائے تو اس کے فریب میں نہ آنا بلکہ ایسے جاہلوں سے اعراض کرنا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دفعہ ایک صحابی نے پوچھا یا رَسُولَ اللهِ ! انسان دن میں کتنی دفعہ مغفرت کرے؟ آپ نے فرمایا: ستر مرتبہ۔اب ستر سے مرا دستر ہی نہیں کیونکہ انسان دن بھر میں دو یا چار قصور کرے گا، ستر قصور نہیں کر سکتا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ ستر دفعہ معاف کرو۔دراصل اس ستر سے مراد کثرت ہے کیونکہ ستر یا سات کے معنے عربی زبان میں کثرت کے ہوتے ہیں۔اسی طرح فرماتا ہے وَلَيَعْفُوا وَلَيَصْفَحُوا اَلَا تُحِبُّونَ اَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَكُم وَ اللهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ها مؤمنوں کو چاہئے وہ عفو کریں، درگزر کی عادت ڈالیں اور اس کا فائدہ یہ بتایا کہ کیا تم نہیں چاہتے کہ خدا تعالیٰ تمہارے گناہ بخشے؟ جب تم چاہتے ہو کہ خدا تمہارے گنا ہوں کو بخشے تو اے مؤ منو ! تم بھی اپنے بھائیوں کے گناہوں کو بخشو ، اگر تم اپنے بھائیوں کے گناہوں کو بخشو گے تو خدا تمہارے قصوروں کو معاف کرے گا۔احسان (۳) امن کو قائم کرنے کا ایک ذریعہ احسان ہے اسکے متعلق بھی قرآن کریم میں حکم موجود ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ الْكَظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ کہ مؤمن وہ ہیں جو غصے کو دباتے ہیں ، جو لوگوں کو معاف کرتے ہیں اور پھر ان پر احسان بھی کرتے ہیں، اسی طرح فرماتا ہے اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبي ل کہ اللہ تعالیٰ عدل، احسان، ایتائے ذی القربیٰ کا حکم دیتا ہے ان تینوں کی مثال میں میں ایک واقعہ بیان کر دیتا ہوں جو میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زبان سے سنا اور جسے بعد میں میں نے اور کتابوں میں بھی پڑھا ہے۔وہ واقعہ یہ ہے کہ ایک دفعہ حضرت امام حسنؓ نے اپنے ایک غلام کو کوئی برتن لانے کے لئے کہا۔اتفاقاً وہ برتن اُس نے بے احتیاطی سے اُٹھایا اور وہ ٹوٹ گیا، وہ برتن کوئی اعلیٰ قسم کا تھا حضرت امام حسنؓ کو غصہ آیا۔اس پر اس غلام نے یہی آیت پڑھ دی اور کہنے لگا وَالكَظِمِينَ الْغَيْظَ کہ مومنوں کو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ وہ اپنے غصہ کو دبا لیں۔حضرت امام حسنؓ نے فرمایا كَظَمُتُ الْغَیظ کہ میں نے اپنے غصہ کو دبا لیا اس