انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 73

سیر روحانی (۲) انوار العلوم جلد ۱۶ پر اُس نے آیت کا اگلہ حصہ پڑھ دیا اور کہنے لگا وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ کہ مؤمنوں کو صرف یہی حکم نہیں کہ وہ اپنے غصہ کو دبا لیں بلکہ یہ بھی حکم ہے کہ وہ دوسروں کو معاف کیا کریں۔حضرت امام حسنؓ فرمانے لگے عَفَوتُ عَنكَ جاؤ میں نے تمہیں معاف کر دیا اس پر وہ کہنے لگا وَاللهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِینَ اِس سے آگے یہ بھی حکم ہے کہ مؤمن احسان کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی محبت محسنوں کو حاصل ہوتی ہے اس پر حضرت امام حسنؓ نے فرمایا جاؤ میں نے تمہیں آزاد کر دیا۔گویا پہلے انہوں نے اپنے غصہ کو دبایا، پھر اپنے دل سے اسے معاف کر دیا اور پھر احسان یہ کیا کہ اُسے آزاد کر دیا۔دین کو دنیا پر مقدم رکھنا (۴) چوتھی بات جس کا امن کے قیام کے ساتھ تعلق ہے وہ دین کو دنیا پر مقدم رکھنا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جب تک انسان کو یہ یقین نہ ہو کہ مرنے کے بعد بھی کوئی زندگی ہے اُس وقت تک وہ حقیقی قربانی نہیں کر سکتا ، کیونکہ کچھ قربانیاں تو ایسی ہیں جن کا دنیا میں بدلہ مل جاتا ہے مگر بیسیوں قربانیاں ایسی ہیں جن کا دنیا میں کوئی بدلہ نہیں ملتا۔پس حقیقی قربانی بغیر اُخروی زندگی پر یقین رکھنے کے نہیں ہو سکتی کیونکہ اس کے بغیر انسان اپنی قربانی کو ضائع سمجھتا ہے اور چونکہ حقیقی قربانی کے بغیر امن نہیں ہو سکتا اس لئے جب تک اُخروی زندگی پر ایمان نہ ہو اُس وقت تک حقیقی امن دنیا کو نصیب نہیں ہو سکتا، اللہ تعالیٰ اس کے متعلق قرآن کریم میں توجہ دلاتے ہوئے فرماتا ہے بَل تُؤْثِرُونَ الْحَيوةَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَّابْقَى کہ مؤمن تو دین کو دنیا پر مقدم کرتا ہے مگر تم وہ ہو جو دنیا کو دین پر مقدم کر رہے ہو۔إِنَّ هذا لَفِي الصُّحُفِ الأولى صُحُفِ إِبْرَاهِيمَ وَ مُؤسَى ۲۸ پہلے نبیوں کو بھی یہی تعلیم دی گئی کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھو مگر ان کے اتباع نے اس تعلیم کو بُھلا دیا اور دنیا کا امن برباد ہو گیا غرض یہ آٹھوں باتیں جو امن کے قیام کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں مسلمانوں میں پائی جاتی تھیں۔وہ قیامت پر ایمان رکھتے تھے وہ دین کو دنیا پر مقدم رکھتے تھے، وہ محسن تھے ، وہ مغفرت سے کام لیتے تھے ، وہ خیر خواہ تھے ، وہ بدظنی سے بچتے تھے ، وہ ظلم کا ارتکاب نہیں کرتے تھے ، وہ لالچ سے محفوظ رہتے تھے اور وہ غصے کو اپنے اوپر غالب نہیں آنے دیتے تھے۔امامت کے وجود کا ظہور (۷) ساتویں بات یہ ہے کہ مساجد کے ذریعہ قیام امامت کو قوم کے سامنے رکھا جاتا ہے تا کہ یہ سبق بھولے نہیں اور