انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page viii of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page viii

انوار العلوم جلد ۱۶ کے حوالے سے یہ مضمون خاص اہمیت کا حامل ہے۔(۷) افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۴۱ء تعارف کا ی مختصر مضمون سید نا حضرت خلیفۃ السیح الثانی کے افتتاحی خطاب بر موقع جلسہ سالا نہ ۱۹۴۱ء قادیان پر مبنی ہے۔اس میں حضور نے مقررین اور سامعین کو ہر کام سے پہلے اپنی نیت درست کرنے کی طرف توجہ دلائی۔آپ نے فرمایا کہ ہر کام سے پہلے بسم اللہ پڑھنے میں دراصل حکمت یہی ہے کہ کسی کام کے شروع کرنے سے پہلے اپنی نیت کو درست کر کے صرف خدا تعالیٰ کے لئے ہی مخصوص کر لینی چاہئے۔اس جلسہ میں بھی شریک ہونے کے پیچھے دراصل یہی نیت اور ارادہ کار فرما ہونا چاہئے۔(۸) مستورات سے خطاب (۱۹۴۱ء) یہ مضمون حضرت مصلح موعود کے اُس روح پرور خطاب مشتمل ہے جو حضور نے جلسہ سالانہ قادیان کے موقع پر مورخہ ۲۷ / دسمبر ۱۹۴۱ء کو مستورات میں ارشادفرمایا تھا۔حضور نے اپنے اس خطاب میں سورۃ ابراہیم کی آیت نمبر ۲۴ تا ۲۶ کی تفسیر کرتے ہوئے پہلے دنیوی نہروں، باغات اور زمینوں کا اُخروی نہروں، باغوں اور زمینوں کے ساتھ فرق بیان فرمایا ہے۔اس کے بعد کلمہ طیبہ پر روشنی ڈالتے ہوئے وضاحت کے ساتھ طیب کے درج ذیل چار معانی بیان فرمائے ہیں۔۱ خوش شکل ۲۔خوشبودار ۳۔لذیذ ۴۔شیریں طیب کے مذکورہ معانی بیان کر کے آپ نے لجنہ اماءاللہ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ:- وپس میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ کلمہ تو تمہیں پڑھا دیا گیا ہے اب اس کو طیبہ بنانا تمہارے اختیار میں ہے۔لوگ بڑے بڑے نام رکھتے ہیں لیکن نام سے کچھ نہیں بنتا۔اسی طرح صرف کلمہ پڑھنے سے عزت نہیں ملتی بلکہ کلمہ طیبہ سے ملتی