انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 57 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 57

انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۲) کہتے ہیں ایک کشمیری کہیں بیٹھا ہوا تھا اور اُس نے اپنے اوپر ایک بہت بڑی چادر لپیٹی ہوئی تھی کسی شخص نے اس سے پوچھا کہ تمہارا کوئی بچہ بھی ہے؟ وہ کہنے لگا کوئی نہیں۔اس نے کہا نہیں سچ سچ بتاؤ ایک یا دو تو ہوں گے، کہنے لگا سچ کہتا ہوں میرا تو ایک بچہ بھی نہیں۔تھوڑی دیر کے بعد وہ کشمیری اُٹھا تو چادر کے نیچے سے چار بچے نکل آئے ، یہ دیکھ کر وہی شخص اسے کہنے لگا کہ تم تو کہتے تھے کہ میرا ایک بچہ بھی نہیں اور یہ تو چار بچے تمہارے ساتھ ہیں۔اس پر وہ کشمیری کہنے لگا ، حضرت چار پتر بھی کوئی پتر ہوندی ہے یعنی چار بیٹے بھی کوئی بیٹے ہوتے ہیں ( یہ مثال لوگوں نے اسی امر کے اظہار کے لئے بنائی کہ مَا شَاءَ اللہ کشمیریوں کے اولاد بہت ہوتی ہے ) اسی طرح امریکہ والوں نے کہہ دیا کہ ۲ پرسنٹ شراب کوئی شراب نہیں۔مگر اس قدر ا جازت دینے کے باوجود جب اس نے قانوناً شراب کی ممانعت کر دی تو ملک میں خطرناک فساد برپا ہو گیا۔ہزار ہا آدمی سالانہ محض اس کی وجہ سے مارا جاتا تھا کیونکہ جنہیں شراب پینے کی عادت تھی وہ شراب کے لئے دوسروں کو روپیہ دیتے اور وہ چوری چھپے لے آتے۔آخر لفنگوں اور بدمعاشوں کی کمیٹیاں بن گئیں جو لوگوں سے روپیہ وصول کرتیں اور انہیں کسی نہ کسی طرح شراب مہیا کر دیتیں اور چونکہ اس طرح مختلف کمیٹیوں والوں کی آپس میں رقابت ہوگئی اس لئے وہ موقع ملنے پر ایک دوسرے کے آدمیوں کو مروا دیتیں۔پھر پولیس کو مقدمات چلانے پڑتے اور درجنوں کو گورنمنٹ پھانسی کی سزا دیتی۔غرض ہزاروں مقدمات چلے ، لاکھوں آدمی مارے گئے اور لاکھوں اس طرح مرے کہ جب انہیں شراب نہ ملتی تو وہ میتھی لیٹڈ سپرٹ (METHYLATED SPIRIT) پی لیتے جو سخت زہریلی چیز ہے اور اس طرح کئی مرجاتے اور کئی اندھے ہو جاتے۔غرض امریکہ اڑھائی فیصدی شراب کی اجازت دے کر بھی اپنے ملک کو شراب پینے سے نہ روک سکا اور لاکھوں قتل ہوئے ، لاکھوں مقدمات ہوئے اور لاکھوں اندھے اور بیکار ہو گئے۔یہاں تک کہ آخر میں حکومت کو اپنا سر جھکانا پڑا اور اس نے کہدیا کہ ہم ہارے اور شراب پینے والے جیتے چنانچہ اس نے ممانعت شراب کا قانون منسوخ کر دیا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان میگر محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو جب یہ آیت اتری کہ شراب پر صحابہ نے شراب کے مٹکے توڑ ڈالے حرام ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو مدینہ کی گلیوں میں اس کا