انوارالعلوم (جلد 16) — Page 58
انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۲) اعلان کرنے کے لئے مقرر کیا تو احادیث میں آتا ہے ایک جگہ شادی کی مجلس لگی ہوئی تھی اور گانا گایا جا رہا تھا اتنے میں باہر سے آواز آئی کہ شراب حرام ہو گئی ہے، لکھا ہے جس وقت یہ اعلان ہوا اُس وقت وہ لوگ شراب کا ایک مٹکا ختم کر چکے تھے اور دو مٹکے ابھی رہتے تھے۔نشہ کی حالت ان پر طاری تھی اور وہ شراب کی ترنگ میں گا بجارہے تھے کہ باہر سے آواز آئی شراب حرام کر دی گئی ہے۔یہ سنتے ہی ایک شخص نشہ کی حالت میں بولا کہ کوئی شخص آوازیں دیتا ہے اور کہتا ہے شراب حرام ہو گئی ہے۔دروازہ کھول کر پتہ تو لو کہ بات کیا ہے؟ اول تو کوئی شرابی نشہ کی حالت میں اس قسم کے الفاظ نہیں کہہ سکتا مگر ان کا دینی جذبہ اس قدر زبردست تھا کہ انہوں نے معاً آواز پر اپنا کان دھرا اور ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ دروازہ کھول کر دریافت کرو کہ بات کیا ہے؟ دوسرا شخص جس کو اس نے مخاطب کیا تھا وہ دروازہ کے پاس بیٹھا تھا اور اُس نے اپنے ہاتھ میں ایک مضبوط ڈنڈا پکڑا ہو ا تھا اس نے جواب دیا کہ پہلے میں ڈنڈے سے مٹکوں کو توڑوں گا اور پھر دریافت کرونگا کہ کیا بات ہے؟ جب ہمارے کان میں یہ آواز آ گئی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب حرام کر دی ہے تو اب اس کے بعد ایک لمحہ کا توقف بھی جائز نہیں اس لئے میں پہلے مٹکے توڑوں گا اور پھر دروازہ کھول کر اس سے دریافت کرونگا۔چنانچہ اس نے پہلے مٹکے توڑے اور پھر منادی والے سے پوچھا کہ کیا بات ہے؟ اُس نے بتایا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب حرام کر دی ہے۔اُس نے کہا الْحَمدُ لِلَّهِ ہم پہلے ہی مٹکوں کو توڑ چکے ہیں۔۴۰ اب بتاؤ کہ کونسی مسجد ہے جو اس طرح بدیوں کو مٹا سکتی ہے۔قتل اولاد کی ممانعت دیکھو تل اولاد ایک مانی ہوئی بدی ہے۔ساری قومیں اس امر کو تسلیم کرتی ہیں کہ قتل اولاد بہت بڑا جرم ہے مگر کسی قوم نے اس کے متعلق شرعی حکم نہیں دیا۔صرف اسلام ہی وہ مذہب ہے جس نے دنیا کے سامنے سب سے پہلے اس حقیقت کو رکھا اور بتایا کہ اولاد کا مارنا حرام ہے اور اس طرح دنیا کو ایک بہت بڑے شر سے بچایا۔عورتوں کے حقوق کی حفاظت اسی طرح عورتوں پر ظلم ہوتے تھے آج ساری دنیا میں یہ شور مچ رہا ہے کہ عورتوں کو ان کے حقوق دینے چاہئیں، عورتوں کو ان کے حقوق دینے چاہئیں اور بعض مغرب زدہ نوجوان تو یہاں تک کہہ دیتے ہیں