انوارالعلوم (جلد 16) — Page 566
۹۳ انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو الوصیت کے نئے نظام کا ذکر یہ وہ تعلیم ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دی۔آپ صاف فرماتے ہیں کہ ہر ایک امرجو مصالح اشاعت اسلام میں داخل ہے اور جس کی اب تفصیل کرنا قبل از وقت ہے اس پر یہ روپیہ خرچ کیا جائے گا۔اس کا صاف مطلب یہ تھا کہ ایسے امور بھی ہیں جن کو ابھی بیان نہیں کیا جا سکتا اور یہ کہ عنقریب وہ زمانہ آنے والا ہے جب دنیا چلا چلا کر کہے گی کہ ہمیں ایک نئے نظام کی ضرورت ہے تب چاروں طرف سے آوازیں اٹھنی شروع ہو جائیں گی کہ آؤ ہم تمہارے سامنے ایک نیا نظام پیش کرتے ہیں۔روس کہے گا آؤ میں تم کو نیا نظام دیتا ہوں ، ہندوستان کہے گا آؤ میں تم کو نیا نظام دیتا ہوں ، جرمنی اور اٹلی کہے گا آؤ میں تم کو ایک نیا نظام دیتا ہوں ، امریکہ کہے گا آؤ میں تم کو نیا نظام دیتا ہوں، اس وقت میرا قائم مقام قادیان سے کہے گا کہ نیا نظام الوصیت میں موجود ہے اگر دنیا فلاح و بہبود کے رستہ پر چلنا چاہتی ہے تو اس کا ایک ہی طریق ہے اور وہ یہ کہ ” الوصیت کے پیش کردہ نظام کو دنیا میں جاری کیا جائے۔وصیت کے اموال میں تیامی ، مساکین اور کافی پھر آپ فرماتے ہیں ” ان اموال میں سے اُن تیموں اور مسکینوں وجوہ معاش نہ رکھنے والے نو مسلموں کا حق کا بھی حق ہو گا جو کافی طور پر وجوہ معاش نہیں رکھتے ( شرط نمبر ۲) پھر فرماتے ہیں ”جائز ہو گا کہ انجمن باتفاق رائے اس روپیہ کو تجارت کے ذریعہ سے ترقی دے“۔(ضمیمہ شرط نمبر ۹) یعنی ان اموال کے ذریعہ تجارت کرنی بھی جائز ہوگی اور تمہیں اس بات کی اجازت ہو گی کہ لوگوں سے ان کے اموال کا دسواں یا آٹھواں یا پانچواں یا تیسرا حصہ لو اور پھر تجارت کر کے اس مال کو بڑھالو۔نئے نظام سے باہر رہنے والے کے لئے ایمان کا خطرہ پھر فرماتے ہیں ہر مؤمن کے ایمان کی آزمائش اس میں ہے کہ وہ اس نظام میں داخل ہو اور خدا تعالیٰ کے خاص فضل حاصل کرے۔صرف منافق ہی اس نظام سے باہر رہے گا۔گویا کسی پر جب نہیں مگر ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ اس میں تمہارے ایمانوں کی آزمائش ہے اگر تم جنت لینا چاہتے ہو تو تمہارے لئے ضروری ہے کہ تم یہ قربانی کرو، ہاں اگر جنت کی قدر و قیمت تمہارے دل میں نہیں تو اپنے مال اپنے پاس رکھو