انوارالعلوم (جلد 16) — Page 565
۹۴ انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو مگر اس تعلیم میں خدا تعالیٰ نے طوعی قربانیوں کے کوئی معتین اصول مقرر نہ فرمائے تھے صرف یہ کہا تھا کہ اے مسلمانو ! تمہیں علاوہ جبری ٹیکسوں کے بعض اور ٹیکس بھی دینے پڑیں گے مگر یہ نہیں بتایا تھا کہ وہ ٹیکس کتنے ہوں گے اور ان کی معین صورت کیا ہو گی۔اگر کسی زمانہ میں اسلامی حکومت کو سو میں سے ایک روپیہ کی ضرورت ہوتی تھی تو خلیفہ وقت کہہ دیا کرتا تھا کہ اے بھائیو! اپنی مرضی سے سو میں سے ایک روپیہ دے دو اور اگر کسی زمانہ میں اسلامی حکومت کوسو میں سے دور و پیہ کی ضرورت ہوتی تھی تو خلیفہ وقت کہ دیا کرتا تھا کہ اے بھائیو! اپنی مرضی سے سو میں سے دور و پے دے دو اسی وجہ سے ہر زمانہ میں اس کی الگ الگ تعبیر کی گئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی تعبیر اس طرح کی کہ وقتا فوقتا زائد چندے مانگ لئے اور خلفاء نے اپنے زمانہ کے مطابق اس کی اس طرح تعبیر کی کہ جو اموال فوجوں میں تقسیم کرنے کے لئے آیا کرتے تھے ان کے ایک بڑے حصہ کو محفوظ کر لیا اور سپاہیوں سے کہا کہ تم اپنی خوشی سے اپنا حق چھوڑ دو اور حضرت مسیح موعود نے اپنے زمانہ کے مطابق تعبیر کر لی۔اگر اسلامی حکومت نے ساری دنیا کو کھانا کھلانا ہے، ساری دنیا کو کپڑے پہنانا ہے، ساری دنیا کی رہائش کے لئے مکانات کا انتظام کرنا ہے، ساری دنیا کی بیماریوں کے لئے علاج کا انتظام کرنا ہے، ساری دنیا کی جہالت کو دور کرنے کے لئے تعلیم کا انتظام کرنا ہے تو یقیناً حکومت کے ہاتھ میں اس سے بہت زیادہ روپیہ ہونا چاہئے جتنا پہلے زمانہ میں ہوا کرتا تھا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے کے ماتحت اعلان فرمایا کہ اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے جو حقیقی جنت حاصل کرنا چاہتے ہیں یہ انتظام فرمایا ہے کہ وہ اپنی خوشی سے اپنے مال کے کم سے کم دسویں حصہ کی اور زیادہ سے زیادہ تیسرے حصہ کی وصیت کر دیں اور آپ فرماتے ہیں ان وصایا سے جو آمد ہوگی وہ ترقی اسلام اور اشاعتِ علم قرآن و کتب دینیہ اور اس سلسلہ کے واعظوں کے لئے“ خرچ ہو گی۔( شرط نمبر۲ ) اسی طرح ہر ایک امر جو مصالح اشاعتِ اسلام میں داخل ہے جس کی اب تفصیل کرنا قبل از وقت ہے وہ تمام امور ان اموال سے انجام پذیر ہوں گے۔(شرط نمبر۲) یعنی اسلام کی تعلیم کو دنیا میں قائم اور راسخ کرنے کے لئے جس قدر امور ضروری ہیں اور جن کی تعبیر کرنا قبل از وقت ہے ہاں اپنے زمانہ میں کوئی اور شخص ان امور کو کھولے گا ان تمام امور کی سرانجام دہی کے لئے یہ روپیہ خرچ کیا جائے گا۔