انوارالعلوم (جلد 16) — Page 528
۵۵ انوار العلوم جلد ۱۶ نظام تو تک کہ وہ تاوانِ جنگ ادا کریں اُن سے خدمت لے سکتا ہے۔آجکل کی یورپین قوموں کو ہی دیکھ لوفرانس کے قیدی جو ہٹلر کے قبضہ میں ہیں ان سے وہ تاوانِ جنگ الگ وصول کرے گا اور خدمت الگ لے رہا ہے۔چنانچہ ہر جگہ کہیں جنگی قیدیوں سے سڑکیں بنواتے ہیں، کہیں مٹی گھر واتے ہیں اور کہیں اور کام لیتے ہیں۔بے شک وہ ان سے اُن کے عہدوں کے مطابق کام لیتے ہیں مگر یہ نہیں کرتے کہ انہیں فارغ رہنے دیں۔پس جنگی قیدیوں سے اب بھی مختلف کام لئے جاتے ہیں اور یہی اسلام کا حکم ہے فرق صرف اتنا ہے کہ ان کے ہاں تاوانِ جنگ کو مقدم رکھا جاتا ہے اور اسلام یہ کہتا ہے کہ ہمارا پہلا حکم یہ ہے کہ تم انہیں احسان کر کے چھوڑ دو ہاں اگر احسان نہیں کر سکتے تو پھر دوسرا حکم یہ ہے کہ ان سے تاوانِ جنگ لے کر انہیں رہا کر دو۔اسلامی تعلیم کے مطابق جنگی قیدی سے آئندہ جنگوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسل کے عمل سے یہ بھی ثابت ہے میں شامل نہ ہونے کا معاہدہ لے کر اُسے رہا کر دینا کہ احسان کر کے چھوڑتے وقت یہ معاہدہ لیا جا سکتا ہے کہ وہ پھر مسلمانوں سے جنگ کرنے کے لئے نہیں نکلیں گے کیونکہ ہوسکتا ہے ایک شخص ایک دفعہ رہا ہو تو دوسری دفعہ پھر مسلمانوں کے خلاف کسی جنگ میں شامل ہو جائے اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس قسم کی شرط کر لینے کی اجازت دی ہے۔خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ کا ایک واقعہ ایسا ہے جو بتا تا ہے کہ اس قسم کے خطرات قیدیوں کو رہا کرتے وقت ہو سکتے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دفعہ ایک قیدی ابو عزہ نامی کو رہا کیا یہ شخص جنگِ بدر میں پکڑا گیا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے یہ عہد لے کر چھوڑ دیا کہ وہ آئندہ مسلمانوں کے خلاف کسی جنگ میں شامل نہیں ہو گا مگر وہ جنگ احد میں مسلمانوں کے خلاف پھر لڑنے کے لئے نکلا اور آخر حمراء الاسد کی جنگ میں گرفتار ہو کر مارا گیا۔پس جنگی قیدیوں کے لئے اسلام دو ہی صورتیں تجویز فرماتا ہے (1) احسان کر کے چھوڑ دیا جائے اور اگر یہ نہ ہو سکے تو (2) تاوان جنگ بحصہ رسدی وصول کر کے انہیں چھوڑ دیا جائے۔جنگی قیدی سے خدمت لینا ہاں جب تک وہ فدیہ ادا نہ کرے اس سے خدمت لینی جائز ہے کیونکہ قیدی بنانے کی غرض یہی ہوتی ہے کہ دشمن کی طاقت کو کمزور کیا جائے اگر قیدیوں کو اکٹھا کر کے انہیں کھلانا پلانا شروع کر دیا جائے اور