انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 452 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 452

انوار العلوم جلد ۱۶ بعض اہم اور ضروری امور اسلام کو مزید قربانی سے خوبصورت بنائیں۔اب چونکہ انہوں نے مجھے مجبور کر دیا ہے اور دوسروں کے حقوق کا بھی سوال ہے میں نے مجبوراً اس کا ذکر کر دیا ورنہ یہ معمولی بات تھی بچوں کی لڑائی تھی۔میں سمجھتا ہوں جماعتی لحاظ سے یہ غلطی ہوئی کہ ان کے بچوں کو پولیس کے پاس جانے دیا گیا یہ معاملہ گھر پر طے ہونا چاہئے تھا اور آئندہ ایسا ہی ہونا چاہئے مگر جو تکلیف انہیں بچوں کے پولیس میں جانے سے ہوئی اگر وہ اس پر صبر کرتے اور معاملہ سلسلہ کے پاس ہی رہنے دیتے تو اچھا ہوتا اب جو انہوں نے مضمون لکھا تو چونکہ ان کے دیکھے واقعات نہ تھے۔اس میں کئی غلطیاں کر گئے اور خلاف واقعات سنے سنائے لکھ دیئے۔میری اس تقریر کے بعد میں سمجھتا ہوں کہ لوکل پریذیڈنٹ یا ناظر امور عامہ کی بھی تسلی ہو جانی چاہئے خصوصاً جب کہ ان کی بھی یہ غلطی ہے کہ انہوں نے ایک معمولی لڑائی کی رپورٹ پولیس میں کرنے کی اجازت دی اور ماں باپ کے لئے تشویش کی صورت پیدا کی اور ایک تو مسلم جو اپنے عزیزوں کو چھوڑ کر ہم میں آیا تھا اُس کی دلداری کو مد نظر نہیں رکھا حالانکہ یہ ان کا فرض تھا۔ایک اہم علمی مضمون اس کے بعد میں کل کے مضمون کے متعلق یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ نے بیان کرنے کی توفیق دی تو وہ ایسا مضمون ہوگا کہ جو دوستوں کو خصوصیت کے ساتھ توجہ سے سننا چاہئے جو لوگ اسے سمجھ سکیں گے وہ تسلیم کریں گے کہ یہ بہت ہی اہم مضمون ہے اور جو نہ بھی سمجھیں گے اُن کو میں یقین دلاتا ہوں کہ یہ بہت اہم ہے اور جو کچھ سمجھیں گے اور کچھ نہ سمجھیں گے اُن کو میں بتانا چاہتا ہوں کہ جو حصہ وہ آج نہ سمجھیں گے اُسے گل سمجھ سکیں گے اور جسے وہ نہ سمجھیں گے ممکن ہے اگر نوٹ کر کے لے جائیں تو ان کا دوسرا بھائی جو جلسہ پر نہیں آسکا شاید اسے سمجھ لے پس میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ جو اسے لکھ سکیں وہ ضرور لکھیں اور اسے بار بار پڑھیں اس کا کچھ حصہ تو تمہیدی ہو گا لیکن اصل مضمون کو جذب کرنا ہراحمدی کے لئے بہت ضروری ہے اور جولوگ جلسہ پر نہیں آسکے جو آئے ہیں ان کے لئے انہیں بتا نا ضروری ہے۔آج کی تقریر شروع کرنے سے قبل میں خدام الاحمدیہ کا خدام الاحمدیہ کا انعامی جھنڈا انعامی جھنڈا جو دورانِ سال میں سب سے اچھا کام کرنے والی مجلس کو دیا جاتا ہے مجلس دار الرحمت قادیان کے زعیم بابو غلام حسین صاحب کو دیتا ہوں میں اس محلہ کی مجلس خدام الاحمدیہ کو مبارکباد دیتا ہوں کہ وہ کام میں اول رہی ہے اور میں امید