انوارالعلوم (جلد 16) — Page 431
افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۴۲ء انوار العلوم جلد ۱۶ چاہئے کیونکہ اگر انہیں تبلیغ نہیں ہوگی تو وہ احمدی کس طرح ہوں گے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کپڑوں سے برکت کس طرح ڈھونڈیں گے تو یہ سارے مقاصد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے الہامات میں بیان کر دیئے گے ہیں۔اگر ان مقاصد پر ہمیں یقین ہو تو ہمارے اندر ایسی گرمی اور ایسا جوش پیدا ہو جائے جو اُن ساری غفلتوں اور سُستیوں کو دور کر دے جو جماعت کے ایک حصہ میں پائی جاتی ہیں۔دنیا میں ہمیں یہ ایک عام قاعدہ دکھائی دیتا ہے کہ جتنا بڑا کام ہو اُتنی ہی انسان اُس کے لئے جد وجہد اور محنت کرتا ہے اور اگر کوئی بڑا مقصد سامنے نہ ہو تو چُست تو کام کرتے رہتے ہیں مست نہیں کرتے۔پس یہ یقینی بات ہے کہ اگر بڑا مقصد سامنے ہوگا تو اس کے لحاظ سے ہر شخص کے اندر خواہ وہ کس قدر شست کیوں نہ ہو کچھ نہ کچھ گرمی پیدا ہو جائے گی۔ایک سُست الوجود بعض دفعہ گھنٹوں چار پائی پر لیٹا رہتا ہے سو کر اُٹھتا ہے تو پاخانہ پیشاب کے لئے بھی لیت ولعل کرتا رہتا ہے اُس کے عزیز اور رشتہ دار بار بار کہتے ہیں اُٹھو دیر ہو رہی ہے ہاتھ منہ دھو کر ناشتہ کر لومگر وہ جلدی اُٹھنے کا نام نہیں لیتا اور گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ لگا دیتا ہے لیکن جب ریل کے سٹیشن پر وہی شست انسان کھڑا ہو تو اس وقت وہ ایسی سستی نہیں دکھاتا۔بے شک یہ تو ہو جائے گا که چست آدمی سٹیشن پر پہلے پہنچ جائیں اور یہ بعد میں پہنچے مگر یہاں وہ گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ کی دیر نہیں لگائے گا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہاں گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ کی دیر مہلک ہے منٹ دومنٹ کی سستی تو وہ ضرور کرے گا مگر زیادہ نہیں کیونکہ اُس کے مقصد میں فرق پیدا ہو گیا ہے۔تو اگر مقاصد عالیہ ہماری جماعت کے سامنے ہوں تو جو لوگ سُست ہیں اُن میں بھی نسبتی طور پر چُستی پیدا ہو جائے گی اور جو چُست ہیں وہ پہلے سے بھی زیادہ چست ہو جائیں گے۔پس ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم جب بھی کسی اجتماع میں شامل ہوں ہماری توجہ کا مرکز خصوصیت کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات ہوں اور وہ مقاصد ہوں جو خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے تجویز کئے ہیں۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات کو ہماری جماعت اپنے سامنے رکھے تو ہم میں سے ہر شخص کے دل میں اندھا دھند نہیں جیسے جاہلوں کا ایمان ہوتا ہے بلکہ علَى وَجْهِ الْبَصِيرَتْ یہ ایمان پیدا ہو جائے کہ یورپ میں اس وقت جو جنگ ہورہی ہے وہ دنیا کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کرے گی بلکہ دنیا کا آئندہ فیصلہ اس اجتماع پر ہوگا جو اس میدان میں ہو رہا ہے۔ہمارے نزدیک تو وہ ایک کھیل کھیل رہے ہیں وہ جتنی تلوار میں چلائیں، جتنی بندوقیں اور تو ہیں چلائیں ، جتنے طیارے بنا ئیں اور جس قدر بم پھینکیں سب ایک