انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 417 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 417

انوار العلوم جلد ۱۶ خدام الاحمدیہ سے خطاب دوسرے کو کہا کہ وہ بھی مصری کی ایک ڈلی نکال کر رکھ دے اور پھر فیصلہ یہ کیا کہ جس کی ڈلی پر سب سے پہلے مکھی بیٹھے گی وہ جیت جائے گا اور اسے دوسرا شخص اتنے ڈالر انعام دے گا۔غرض اس طرح انہوں نے کھیل کھیلنا شروع کر دیا کسی کو احساس بھی نہیں ہوتا تھا کہ جوا کھیلا جارہا ہے وہ یہی دیکھتا کہ مصری کی دو ڈلیاں پڑی ہوئی ہیں مگر در حقیقت ان مصری کی ڈلیوں سے ہی جُوا کھیلا جارہا ہوتا تھا مگرکسی کو پتہ نہیں لگتا تھا وہ یہ بھی جانتے تھے کہ اگر کبھی شور پیدا ہوا تو ہم آرام سے مصری کی ڈلی اُٹھائیں گے اور منہ میں ڈال لیں گے جُوئے کا کوئی نشان باقی نہیں رہے گا لیکن اس معمولی سی بات نے ان میں غیر معمولی دلچسپی پیدا کر دی کیونکہ اب خالی مصری کی ڈلی کا سوال نہیں رہا تھا بلکہ اس کے ساتھ جُوئے کو لگا دیا گیا تھا اور چانس اور عقل یہی دو مقابلے انسانی زندگی کو دلچسپ بناتے ہیں۔اب دیکھ لو وہی لکھی جو پہلے گزرتی تو کسی کو اس کا احساس بھی نہیں ہوتا تھا اس مقابلے کے بعد کیسی دلچسپ چیز بن گئی اور کس طرح ہر شخص بے تابی اور اضطراب کے ساتھ مکھی کا انتظار کرتا ہوگا کبھی کہتا ہوگا لوکھی قریب آگئی لو اب تو بیٹھنے ہی لگی اور کبھی افسوس کے ساتھ کہتا ہوگا مکھی آئی تو سہی مگر چلی گئی گویا یہ بھی ویسا ہی دلچسپ مقابلہ ہو گیا جیسے کشتیوں کا مقابلہ ہوتا ہے کیونکہ دلچسپی خون کے جوش سے پیدا ہوتی ہے اور جس مقابلہ میں انسانی خون کے اندر جوش پیدا ہو جائے اُسی مقابلہ میں انسان کو لذت آنی شروع ہو جاتی ہے۔پس بے شک یہ سوالات علمی مذاق کے ہیں مگر اس علمی مذاق کو بھی دلچسپ بنایا جا سکتا ہے صرف عقل اور سمجھ سے کام لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔جو لوگ عقل اور سمجھ سے کام لیتے ہیں وہ ہر کام میں دلچسپی پیدا کر لیتے ہیں اور جو عقل سے کام نہیں لیتے انہیں بڑے بڑے دلچسپ کاموں میں بھی کوئی لذت محسوس نہیں ہوتی۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن پر نماز کی ادائیگی بہت ہی گراں گزرتی ہے اور وہ بڑی مشکل سے نماز ادا کرتے ہیں لیکن دوسری طرف ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جنہیں نماز میں ایسی لذت آتی ہے کہ اس سے بڑھ کر انہیں اور کسی کام میں لذت نہیں آتی۔وہ نماز کو ایسا ہی سمجھتے ہیں جیسے کوئی تیرانداز نشانہ پر تیر لگانے کی کوشش کر رہا ہو جس طرح تیرانداز کا جب کوئی تیر نشانہ پر جا لگتا ہے تو وہ خوشی سے چلا اٹھتا ہے کہ لو وہ تیر نشانہ پر جالگا۔اسی طرح نمازی اپنی ہر نماز پر خوش ہوتا اور فرط مسرت سے بے اختیار کہہ اٹھتا ہے میرا تیرا اپنے نشانہ پر جالگا اسی طرح سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمُ جو اُس کی زبان سے نکلتا ہے اسے وہ صرف لفظوں کا مجموعہ نہیں سمجھتا بلکہ اس کے دل اور دماغ میں یہ خیال موجود ہوتا ہے کہ یہ وہ خط ہے جو میں اپنے خدا کے پاس بھیج