انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page iv of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page iv

انوار العلوم جلد ۱۶ تعارف کتب اس الہام کی تفسیر کے بعد حضور نے احباب جماعت کو نیز سلسلہ کے مبلغین اور علماء کو بھی اُن کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔(۲) مستورات سے خطاب (۱۹۴۰ء) یہ خطاب حضرت مصلح موعود نے مؤرخہ ۲۷ / دسمبر ۱۹۴۰ء کو جلسہ سالا نہ قادیان کے موقع پر مستورات میں ارشاد فرمایا۔جس میں حضور انور نے اس تصور اور خیال کی عقلی و نقلی دلائل سے تردید فرمائی ہے کہ عورتیں مردوں سے کوئی علیحدہ چیز ہیں۔جس کی وجہ سے عورتیں اپنے آپ کو بعض ذمہ داریوں اور فرائض سے بری الذمہ سمجھتی ہیں۔نیز مرد بھی عورتوں کو بعض لحاظ سے ایک الگ مخلوق سمجھتے ہیں۔حالانکہ ہمارے مذہب میں ہر عمل میں مرد اور عورتیں یکساں طور پر شامل اور جواب دہ ہیں۔لہذا عورتوں کو بھی مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنا چاہئے اور اپنے آپ کو کمزور نہیں سمجھنا چاہئے۔چنانچہ آپ نے عورتوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ:- پس یہ خیال اپنے دلوں سے نکال ڈالو کہ عورت کوئی کام نہیں کرسکتی۔میں آج یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اے احمدی عورتو! تم اپنی ذہنیت کو بدل ڈالو۔آدمی کے معنی مرد کے ہیں۔تم بھی ویسی ہی آدمی ہو جیسے مرد۔خدا نے جو عقیدے مردوں کے لئے مقرر کئے ہیں وہی عورتوں کے لئے ہیں اور جو انعام اور افضال مردوں کے لئے مقرر ہیں وہی عورتوں کے لئے ہیں۔پھر جب خدا نے فرق نہیں کیا تو تم نے کیوں کیا۔جب تک تم یہ خیال اپنے دل سے نہ نکال دو گی کوئی کام نہیں کر سکو گی۔جب کوئی شخص یہ سمجھ لیتا ہے کہ میں مرگیا ہوں تو وہ مر جاتا ہے اور جب کوئی شخص یہ سمجھ لیتا ہے کہ میں کام کر سکتا ہوں تو وہ کر لیتا ہے۔“ (۳) سیر روحانی (۲) 66 یہ معرکة الآراء خطاب حضرت خلیفہ مسیح الثانی نے مورخہ ۲۸ دسمبر ۱۹۴۰ء کو جلسہ سالانہ۔