انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 326 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 326

انوار العلوم جلد ۱۶ سیر روحانی (۳) کی قبروں میں سادگی مد نظر رکھنی چاہئے اور بلا ضرورت اپنے روپیہ کو ضائع نہیں کرنا چاہئے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انسان کے اندر یہ طبعی خواہش پائی جاتی ہے کہ وہ اپنے عزیزوں کی قبروں کی حفاظت کرے، لیکن تمہارے مرنے کے بعد ان قبروں کی حفاظت کا کون ذمہ دار ہوسکتا ہے؟ ممکن ہے کہ بعد میں آنے والے ان قبروں کو اُکھیڑ کر ان میں اپنے مُردے دفن کر دیں اور تمہارے مُردوں کا کسی کو نشان تک بھی نہ ملے۔لیکن خدا تعالیٰ کے ہاں جو مقبرہ بنتا ہے اُسے کوئی شخص اُکھیڑنے کی طاقت نہیں رکھتا۔پس اپنی قبریں اُسی جگہ بناؤ جہاں خدا تعالیٰ تمہاری قبروں کی حفاظت کا خود ذمہ دار ہوگا اور اگر دنیا میں اپنی قبریں کسی اچھی جگہ بنانے کی خواہش رکھتے ہو تو پھر بہشتی مقبرہ میں بناؤ۔اور یاد رکھو کہ اگر وصیت کے بعد تم کسی مقام پر قتل کر دیئے جاتے ہو یا کسی چھت کے نیچے دب کر ہلاک ہو جاتے ہو یا آگ میں گر کر جل جاتے ہو یا دریا میں غرق ہو جاتے ہو یا شیر کا شکار بن جاتے اور اس طرح بہشتی مقبرہ میں تمہارا جسم دفن نہیں ہوسکتا تو مت سمجھو کہ تمہارا خدا تمہیں ضائع کر دے گا۔جب کوئی شخص شیر کے پیٹ میں جا رہا ہو گا تو اُس شیر کے پیچھے جبریل ہاتھ پھیلائے کھڑا ہو گا کہ کب اس کی روح نکلتی ہے کہ میں اسے اپنی آغوش میں لے لوں۔اسی طرح جب کوئی شخص آگ میں جل رہا ہو گا تو گو لوگوں کو یہی نظر آ رہا ہو گا کہ وہ جل کر فنا ہو گیا مگر خدا کے دربار میں وہ اُس کی محبت کی آگ میں جل رہا ہوگا اور خدا کے فرشتے اس کی عزت کر رہے ہو نگے۔پس دنیا کے مقبروں پر اپنا روپیہ ضائع مت کرو، بلکہ اپنی قبریں بہشتی مقبرہ میں بناؤ۔اور یا پھر اُس بہشتی مقبرہ میں بناؤ جہاں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہیں، جہاں نوح" بھی ہیں، جہاں ابراہیم بھی ہیں، جہاں موسی" بھی ہیں ، جہاں عیسی" بھی ہیں اور جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی ہیں۔اسی طرح تمہارے آباء واجداد بھی وہیں ہیں۔پس کوشش کرو کہ وہاں تمہیں اچھے مقبرے نصیب ہوں اور تمہیں اُس کے رسولوں کا قرب حاصل ہو۔(۷)۔مینا بازار ساتویں چیز جس کے نشان میں نے اس سفر میں دیکھے اور جن سے میں متاثر ہوا وہ مینا بازار تھے۔چنانچہ میں نے ان یادگاروں میں بازاروں کی جگہ بھی دیکھی جہاں شاہی نگرانی میں بازار