انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 277 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 277

انوار العلوم جلد ۱۶ بعض اہم اور ضروری امور کی طرف توجہ ہو جائے گی۔پس صحیح طریق یہ ہے کہ حکومت اعلان کر دے کہ صلح کر لو تو کامل آزادی دے دی جائے گی اور یہ کہ اگر صلح نہ کرو گے تو کچھ نہ دیا جائے گا۔اس کا موجودہ طریق تو یہ ہے کہ وہ ہند و مسلمانوں کے متفقہ مطالبہ کے باوجود مزید تبدیلی حکومت میں کر دیتی ہے اور پھر جب اگلا مطالبہ ہوتا ہے تو کہتی ہے کہ پہلے صلح کرو اور پھر آؤ اور یہ بالکل غلط طریق ہے۔اگر وہ اس طریق کو اختیار کرے جو میں نے پیش کیا ہے تو اس سے ان لوگوں کو تقویت حاصل ہوگی جو چاہتے ہیں کہ جنگ کے دنوں میں حکومت اور رعایا میں صلح ہونی چاہئے۔اگر حکومت نے سمجھوتہ کے بغیر بھی حقوق دے دینے ہیں یا سمجھوتہ کے بغیر بھی کامل آزادی نہیں دینی تو پھر سمجھوتہ کا سوال اُٹھا نا دیانتداری نہیں۔اور حکومت کو چاہئے کہ اس رویہ کو فوراً بدل دے۔یوں تو وائسرائے ہند اور سب گورنر بھی یہ کہتے ہیں کہ صلح کر لینی چاہئے مگر انہیں یہ بھی تو سوچنا چاہئے کہ صلح کے لئے کوئی ماحول بھی تو ہونا چاہئے۔ہندوستانیوں کے مطالبہ کا جو جواب حکومت دیتی ہے وہ صلح کے لئے ماحول پیدا کرنے کا موجب نہیں ہو سکتا۔جنگ سے ڈرا کر صلح کا مطالبہ تسلی دینے والا جواب نہیں اور ایسے جوابات سے دل صاف نہیں ہوتے۔ایسے جوابات سے دلوں میں بغض بڑھ جاتا ہے کیونکہ دوسرا فریق خیال کرتا ہے کہ میری مشکل سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔دوسری طرف کانگرس اپنی بات پر مُصر ہے وہ حکومت سے کہتی ہے کہ ہم خود صلح کر لیں گے تم بہر حال ہمیں حقوق دے دو یہ بات بھی بالکل غلط ہے۔اسے اصولی معین بات کرنی چاہئے یا تو وہ صاف لفظوں میں یہ کہہ دے کہ مسلمانوں کی رائے کا ملک کے آئندہ انتظام میں کوئی دخل نہ ہوگا۔ہندوؤں کے مقابلہ میں ان کی آبادی کی نسبت تین اور ایک کی ہے اور ڈیموکریسی کا اصول یہ ہے کہ تین ایک پر حکومت کریں۔اس سے مسلمان اپنی پوزیشن کو سمجھ لیں گے اور انہیں پتہ لگ جائے گا کہ آئندہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے اور وہ اپنے لئے جو راستہ موزوں سمجھیں گے اختیار کر لیں گے۔پس ہندوؤں کو چاہئے کہ یا تو یہ اعلان کر دیں کہ آئندہ نظام میں اکثریت کی رائے ہی مانی جائے گی خواہ وہ خالصتہ ہندو ہی کیوں نہ ہو اور یا پھر یہ بتائیں کہ یہ اندرونی جھگڑے کس طرح طے ہوں گے؟ اور اگر وہ تسلیم کر لیں کہ مسلمانوں کی رضامندی کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کیا جائے گا اور اقلیتوں کو بہر حال مطمئن کیا جائے گا اور ان کی رائے کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کیا جائے گا تو پھر وہ سوچیں کہ جب تک ہندوؤں اور مسلمانوں میں فیصلہ اور سمجھوتہ نہ ہو انگریز اگر حقوق دیں تو کیسے دیں اور اس طرح وہ مسلمانوں کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہ کر کے گویا اس بات کی