انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 273 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 273

بعض اہم اور ضروری امور انوار العلوم جلد ۱۶ مگر اب اتنے نہیں کرتے اس لئے میں پھر دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ تبلیغ کے لئے اپنی زندگیاں وقف کریں۔آج وہ دن ہیں کہ انسان چنوں کی طرح بھونے جا رہے ہیں۔کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ وہ خود ہی اپنی جانوں کو خدا تعالیٰ کے لئے دے دیں۔آج جب ہر چیز پر وبال آ رہا ہے تو کیا اسے خدا تعالیٰ کی راہ میں صرف کر دینا بہتر نہیں۔پس گریجوایٹ یا انٹرنس پاس مولوی فاضل اپنی زندگیوں کو وقف کریں۔جلد از جلد ضرورت ہے کہ نو جوان اپنے نام پیش کریں۔جو نوجوان آج اپنے آپ کو پیش کریں وہ چھ سال میں تیار ہو سکیں گے۔شاید اس کی وجہ یہ بھی ہو کہ اس وقت جو اُستاد ہمیں ملے ہیں وہ بوڑھے ہیں۔ممکن ہے جب موجودہ نوجوان تیار ہو جائیں تو یہی کورس چار سال میں ختم کرایا جا سکے۔بہر حال آج زندگی وقف کرنے والے نوجوانوں کی ضرورت ہے تا ابھی سے ان کی تیاری کا کام شروع کر دیا جائے۔اس وقت گو ہندوستان سے باہر مبلغ نہیں بھیجے جا سکتے مگر جنگ کے بعد بہت ضرورت ہوگی۔فی الحال ہمیں ہندوستان میں ہی تبلیغ کے کام کو بڑھانا چاہئے اور باہر کا جو راستہ بند ہو چکا ہے اس کا کفارہ یہاں ادا کرنا ضروری ہے۔پس کیوں نہ ہم یہاں اتنا زور لگائیں کہ جماعت میں ترقی کی رفتار سوائی یا ڈیوڑھی ہو جائے اور دو تین سال میں ہی جماعت دُگنی ہو جائے۔جب تک ترقی کی یہ رفتار نہ ہو کا میابی نہیں ہوسکتی۔ہمارے سامنے بہت بڑا کام کیا ہے؟ پونے دو ارب مخلوق ہے جسے ہم نے صداقت کو منوانا ہے اور جب تک باہر کے راستے بند ہیں ہندوستان میں ہی کیوں نہ کوشش زیادہ کی جائے۔بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ ہم تبلیغ کا کام نہیں کر سکتے کیونکہ ہم عالم نہیں ہیں۔مجھے تو یہ کبھی سمجھ نہیں آئی کہ ایک احمدی یہ خیال کس طرح کر سکتا ہے کہ وہ کچھ نہیں جانتا۔احمدی سے زیادہ عالم اور کون ہوسکتا ہے۔دوسرے لوگ تو اگر جہالت کی بات بھی جانیں تو سمجھتے ہیں کہ وہ عالم ہو گئے ہیں مگر بعض احمدی اس قدر دینی امور سے واقفیت رکھنے کے باوجود سمجھتے ہیں کہ وہ علم نہیں رکھتے اور اس وجہ سے تبلیغ نہیں کر سکتے۔میرے ایک دوست نے جو عزیز بھی ہیں سنایا کہ وہ ایک دفعہ شکار کے لئے گئے اور ایک ہرن شکار کیا۔اُن کا نوکر ساتھ تھا وہ ان کے پاس پہنچا اور کہنے لگا کہ کیا آپ کو ہرن ذبح کرنے کی تکبیر آتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں بِسمِ اللهِ اللهُ اَكْبَر کہہ کر ہر جانور ذبح کیا جاتا ہے۔وہ کہنے لگا بس معلوم ہو گیا آپ کو ہرن کی تکبیر نہیں آتی۔انہوں نے کہا کہ وہ کیا تکبیر ہے؟ اُس نے جواب دیا کہ ہرن کو لیٹا کر اُس کی گردن پکڑ کر کہنا چاہئے کہ تو لوگوں کے کھیت کھاتی اور مزے اُڑاتی تھی اب آئی تیری شامت الله اکبر۔اب دیکھو وہ بے چارہ ایک جہالت کے