انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 246 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 246

انوار العلوم جلد ۱۶ چھپوایا جائے یا جنگ کے اختتام تک انتظار کیا جائے۔بعض اہم اور ضروری امور -۸- تفسیر کبیر کی مخالفت تفسیر کبیر کا اثر تعلیم یافتہ طبقہ پر بہت اچھا ہے اور بعض لوگ اس سے گہرے طور پر متاثر ہوئے ہیں اور سب سے بڑی چیز تو یہ ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کے حضور مقبول ہو چکی ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ دشمن نے اس کی مخالفت شروع کر دی ہے۔حضرت خلیفہ اول ایک واقعہ سنایا کرتے تھے کہ ایک بزرگ نے ایک کام بڑی نیک نیتی کے ساتھ کیا اور وہ اس پر بہت خوش تھے کہ اس کی توفیق ملی مگر کچھ عرصہ کے بعد وہ آپ سے ملے اور کہا کہ معلوم ہوتا ہے میری نیت میں ضرور کوئی خرابی تھی کیونکہ میرا یہ کام خدا تعالیٰ کے ہاں مقبول نہیں ہوا۔میں نے کہا کہ آپ کی تحریک تو کامیاب ہوئی ہے بہت سے لوگ ممبر بھی ہو گئے ہیں چندہ بھی آنے لگا ہے پھر آپ کیسے کہتے ہیں کہ مقبول نہیں ہوا۔اس بزرگ نے جواب دیا کہ خدا تعالیٰ کے ہاں کسی نیک کام کی قبولیت کا ثبوت یہ نہیں ہوتا کہ لوگ اس میں مدد کر نے لگیں بلکہ خدا تعالیٰ کے ہاں مقبول عمل وہ ہوتا ہے جس کی لوگ مخالفت کریں اور چونکہ میرے اس کام کی مخالفت کسی نے نہیں کی اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کے ہاں مقبول نہیں ہوا اور اس پر وہ بہت افسردہ تھے مگر کچھ دنوں کے بعد ملے تو بہت خوش تھے چہرہ بشاش تھا۔میں نے اس کی وجہ پوچھی تو جیب سے ایک خط نکال کر دکھایا کہ دیکھو یہ گالیوں کا خط آیا ہے۔اللہ تعالیٰ کے کاموں کا مقابلہ شیطان ضرور کرتا ہے اور اس کے کام کے لئے جو آدمی مقرر ہوتے ہیں وہ خواہ علماء سے ہوں یا رؤساء میں سے اور خواہ عام لوگوں میں سے وہ ضرور اپنا کام کرتے ہیں چنانچہ اس تفسیر پر مولوی ثناء اللہ صاحب نے بھی اعتراض کئے ہیں اور بہت غصہ کا اظہار کیا ہے کہ امام جماعت احمدیہ نے تفسیر بالرائے لکھی ہے اور پھر اس کے جواب کی ضرورت اس قدر محسوس کی ہے کہ لکھا ہے کہ میں تفسیر کے مکمل ہونے کا انتظار نہیں کرسکتا کیونکہ ممکن ہے اُس وقت تک مر ہی جاؤں اس لئے ابھی سے اس کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کر دیتا ہوں۔چنانچہ ایک رسالہ چند اعتراضات پر مبنی شائع بھی کیا ہے۔پیغامیوں کی طرف سے بھی اس کی مخالفت شروع ہے اور ایک پیغامی مبلغ نے تو یہاں تک کہا ہے کہ میں اپنی عاقبت کی درستی کے لئے اس تفسیر کا جواب لکھنا ضروری سمجھتا ہوں۔اس سے پتہ لگ سکتا ہے کہ دشمن کو یہ تفسیر بہت چھی ہے خصوصاً پیغامی صاحبان کے لئے تو یہ بے حد تکلیف اور اذیت کا موجب ہوئی ہے کیونکہ انہوں نے تفسیر کو خاص طور پر جلب زر کا ذریعہ بنا رکھا تھا۔جب ضرورت ہوتی تحریک شروع کر دیتے کہ