انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 236 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 236

بعض اہم اور ضروری امور انوار العلوم جلد ۱۶ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مضمون اس میں ہوا کرتے تھے بلکہ درمیانی عرصہ میں جو نیند کا زمانہ ان پر آیا تھا اُس سے بہتر ہیں۔سن رائز بھی بہت مفید کام کر رہا ہے۔اور ان ممالک میں جہاں ہم اور کسی زبان میں اپنے خیالات نہیں پہنچا سکتے۔مثلاً امریکہ ، انگلستان وغیرہ وہاں بڑا اچھا اثر پیدا کر رہا ہے۔میرے خطبات اور سلسلہ کی دیگر تحریکات وغیرہ اسی کے ذریعہ ان ممالک کے احمدیوں تک پہنچتی ہیں اور ان سب کے خریدنے کی میں سفارش کرتا ہوں۔دوستوں کو چاہئے کہ کثرت سے ان اخبارات اور رسائل کو خریدیں اور انہیں خریدنا اور پڑھنا ایسا ہی ضروری سمجھیں جیسا زندگی کے لئے سانس لینا ضروری ہے۔یا جیسے وہ روٹی کھانا ضروری سمجھتے ہیں۔دیکھو ایک زمانہ تھا جب آٹا دو روپیہ من بکتا تھا اُس وقت بھی لوگ روٹی کھاتے تھے، پھر سولہ سیر ہوا پھر بھی کھاتے رہے، پھر دس سیر ہوا اُس وقت بھی کھاتے رہے، پھر آٹھ سات بلکہ ۶۱۲ سیر تک پہنچ گیا تو اُس وقت بھی کھاتے رہے اور اب تو قیمتوں پر گورنمنٹ نے حد بندی لگا دی ہے ور نہ اگر تین چار سیر بھی بھاؤ ہو جاتا تو بھی ضرور کھاتے اس لئے کہ اسے زندگی کا مجز و سمجھا جاتا ہے۔اسی طرح اخباروں اور رسائل کا خریدنا اور بھی ضروری سمجھا جائے۔میں امید کرتا ہوں کہ اس دفعہ ضرور احباب توجہ کریں گے اور اخبارات و رسائل کی خریداری کو ضروری سمجھیں گے۔و الفضل، فاروق ، نور سن رائز، ریویوار دو انگریزی ان سب کی خریداری کی میں سفارش کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ میری اس دفعہ کی سفارش کو دوست ضرور قبول کریں گے۔ان کے علاوہ ایک رسالہ ”الفرقان نکلا ہے اس کی تمہید بھی میں نے لکھی ہے جو پیغامیوں کے زہر کے ازالہ کے لئے جاری کیا گیا ہے۔اس کی خریداری کی طرف بھی میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں اور جن نوجوانوں نے یہ جاری کیا ہے ان کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ میں نے مستقل رسالہ کے طور پر اس کے اجراء کی اجازت نہیں دی بلکہ یہ صرف ان اشتہارات کا قائم مقام سمجھنا چاہئے جو پہلے وقتاً فوقتاً شائع ہوتے رہتے ہیں اب گویا وہ مہینہ کے بعد ایک رسالہ کی صورت میں شائع ہوتے رہیں گے۔مستقل رسالہ کے طور پر اسے جاری کرنے کی اجازت میں نے نہیں دی اور نہ اسے یہ حیثیت دینی چاہئے کیونکہ اس کی ضرورت نہیں۔اگر اسے مستقل حیثیت دی جائے تو پھر اسے خواہ مخواہ اور ضرورت کے بغیر بھی جاری رکھنے کی کوشش کی جائے گی میں نے دیکھا ہے جب لوگ کوئی رسالہ جاری کرتے ہیں تو پھر اس کی ضرورت رہے یا نہ رہے اسے جاری رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ اس کی ضرورت کے بعد بھی اسے گھسیٹتے چلے جائیں اور اس