انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 196 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 196

انوار العلوم جلد ۱۶ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔بہت سے ہمارے پاس مقبرہ بہشتی میں آگئے ہیں آپ نے اپنی وصیت جو قادیان میں کرائی تھی منسوخ کرا دی ہے اور میرے اس حکم سے سرتابی کی ہے کہ اس مقبرہ کو اللہ تعالیٰ نے صالحین جماعت کے جمع کرنے کیلئے بنایا ہے تا کہ جس طرح انہیں زندگی میں قرب اور معیت حاصل تھی مرنے کے بعد بھی قرب اور معیت حاصل رہے اور ہم سے دور چلے گئے۔آؤ ہمارے پاس بیٹھ جاؤ مگر افسوس کہ آپ نے اس دعوت کو ر ڈ کر دیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس نہ بیٹھے۔اس امر کا ثبوت کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی جماعت کے ہزاروں آدمیوں کو صالح اور نیک ارادہ رکھنے والے قرار دیتے ہیں مندرجہ ذیل حوالوں سے بخوبی ملتا ہے۔آپ فرماتے ہیں:۔د میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ ہماری تھوڑی سے جماعت میں ہزار ہا ایسے آدمی موجود ہیں جو متقی اور نیک طبع اور خدا تعالیٰ پر پختہ ایمان رکھتے ہیں اور دین کو دنیا پر مقدم رکھتے ہیں۔‘۹۶ نیز فرماتے ہیں:- میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ کم از کم ایک لاکھ آدمی میری جماعت ،، میں ایسے ہیں کہ بچے دل سے میرے پر ایمان لائے ہیں اور اعمال صالحہ بجا لاتے ہیں اور باتیں سننے کے وقت اس قدر روتے ہیں کہ ان کے گریبان تر ہو جاتے ہیں۔میں اپنے ہزار ہا بیعت کندوں میں اس قدر تبدیلی دیکھتا ہوں کہ موسیٰ نبی کے پیرو ان سے جو ان کی زندگی میں ان پر ایمان لائے تھے ہزار ہا درجہ اِن کو بہتر خیال کرتا ہوں اور ان کے چہروں پر صحابہ کے اعتقاد اور صلاحیت کا نور پاتا ہوں۔پس یہ آپ کی خوش فہمی ہے کہ آپ سمجھتے ہیں کہ ایک تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام صالح اور نیک ارادہ رکھنے والے شخص تھے اور دوسرے آپ ہیں اور اس کی طرف ” بھی“ کے لفظ میں اشارہ ہے گویا حضرت خلیفہ امسیح الاوّل اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب اور ہزاروں دوسرے مقربین جماعت جو آپ سے پہلے سلسلہ میں داخل ہوئے اور ابتدائی ایام کی تلخیاں انہوں نے دیکھیں وہ تو اِس " بھی میں شامل نہیں ہیں آپ ہی اس ” بھی“ سے حصہ پانے والے ہیں۔نیز یہ الفاظ کہ صالح تھے اور نیک ارادہ رکھتے تھے ایسا معیاری مقام نہیں کہ ہم یہ خیال کریں کہ اس سے مراد حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہیں۔بلکہ اس سے مراد آپ کی جماعت کے