انوارالعلوم (جلد 16) — Page 180
انوار العلوم جلد ۱۶ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔جائے گا جو خدا تعالیٰ کی اصطلاح، قرآن کریم کی اصطلاح اور سابق انبیاء کی اصطلاح اور خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام سے قائم کردہ اصطلاح کے خلاف کوئی اور اصطلاح پیش کرتا ہے۔غرض یہ امر روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ یا تو الحکم کے حوالہ میں اہل“ کا لفظ چُھوٹ گیا ہے یا پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب یہ الفاظ تحریر فرمائے تھے اُس وقت آپ کی مراد اسلام سے دین اسلام نہ تھی بلکہ اہل اسلام تھی ( گو یہ بھی ممکن ہے کہ آپ اُس وقت تک اس عام طور پر تسلیم کی ہوئی تعریف کو خود بھی صحیح تسلیم کرتے ہوں ) اور جب آپ نے لیکچر سیالکوٹ میں اسلام کی اصطلاح کے الفاظ استعمال فرمائے تو اُس وقت اس انکشاف کے ماتحت جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر ہو چکا تھا آپ کی مراد اسلام کی اصطلاح سے وہی اصطلاح تھی جو خدا تعالیٰ اور قرآن کریم اور سابق انبیاء کی اصطلاح ہے اور یہی تأویل ہے جو ہر قسم کے اعتراضات سے آپ کی تحریرات کو بچاتی ہے۔جناب مولوی محمد علی صاحب کے بیان کردہ چار اعترافوں جناب مولوی محمد علی صاحب کے کا جواب میں یکجائی طور پر اوپر دے آیا ہوں اب میں ان کے قول کے مطابق اپنے پانچویں اعتراف پر کچھ روشنی نزدیک میرا پانچواں اعتراف ڈالتا ہوں۔مولوی صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ میں بقول ان کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس ارشاد کو کہ حدیث نواس بن سمعان میں نبی کا لفظ استعارہ کے طور پر استعمال ہوا ہے اس لئے پس پشت ڈالتا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے موعود کو مجد دنہیں کہا۔پھر فرماتے ہیں کہ بات تو صاف تھی کہ جب وعدہ صرف مجددوں کے آنے کا دیا ہے تو جو بھی آئے گا مجدد ہی آئے گا مجدد کہنے کی ضرورت نہ تھی۔“ مگر بقول مولوی صاحب اس مشکل کو بھی میں نے خود ہی حل کر دیا ہے کیونکہ میں نے خود ہی لکھ دیا کہ اِمَامُكُمْ مِنْكُمُ فرما کر اس طرف توجہ دلا دی کہ وہ آنے والا مسیح تم میں سے ہوگا یعنی امت محمدیہ کا فرد ہو گا۔ا یہ فقرہ لکھ کر تحریر فرماتے ہیں۔اب وقت کیا رہی اِمَامُكُمْ مِنكُم تو صراحت سے بتاتا ہے کہ وہ اس امت کا ایک مجدد ہو گا۔سُبحَانَ اللہ کیا لطیف استدلال ہے دعوی کو دلیل کے طور پر پیش کرنا اسی کو کہتے ہیں۔مولوی صاحب کو نہ معلوم اس موقع پر یہ امر کیوں بھول گیا کہ ہم لوگ تو نبی کی یہ تعریف کرتے ہی نہیں کہ جو امت میں سے نہ ہو بلکہ ہمارا تو یہ عقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ۱۲۰،