انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 176

انوار العلوم جلد ۱۶ سے کچھ نسبت ہی نہیں ہے۔اللہ تعالی ، خاتم النبیین اور امام وقت۔جب آپ کی پیشگوئیوں اور اظہار عَلَی الْغَیب کا یہ حال ہے تو پھر آپ کی نسبت نبی کی اس تعریف کو مدنظر رکھتے ہوئے نبی کے لفظ کو استعارہ قرار دینے کے صرف یہ معنی ہونگے کہ گزشتہ انبیاء میں سے اکثر بھی نبی نہ تھے بلکہ ان کے لئے استعارہ نبی کا لفظ استعمال ہوا ہے۔اور یہ بھی بالبداہت باطل ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔قرآن شریف بجز نبی بلکہ رسول ہونے کے دوسروں پر علوم غیب کا دروازہ بند کرتا ہے جیسا کہ آیت لَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولٍ سے ظاہر ہے۔پس مصفی غیب پانے کے لئے نبی ہونا ضروری ہوا۔۵۶۰ خلاصہ کلام یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو حدیث میں نبی کے لفظ کے استعمال کو استعارہ قرار دیا ہے وہ خدا تعالیٰ کی اصطلاح قرآن کریم کی اصطلاح، اسلام کی اصطلاح اور گزشتہ انبیاء کی اصطلاح اور اپنی اصطلاح کے مطابق نہیں قرار دیا بلکہ کسی اور اصطلاح کے مدنظر استعارہ قرار دیا ہے۔مگر جہاں تک دین کا تعلق ہے ہم اسی اصطلاح پر اپنے عقیدہ کی بنیا درکھ سکتے ہیں جو مذکورہ بالا ہستیوں کی طرف سے مقرر ہو کسی دوسرے شخص کی اصطلاح کے مطابق اگر مذکورہ بالا صفات والا شخص نبی نہ قرار پاتا ہو تو یہ اصطلاح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو زمرہ انبیاء سے خارج نہیں کر سکتی۔ہاں اُس کی غلط فہمی کو دور کرنے کے لئے ضروری ہوگا کہ ہم یہ بھی کہتے رہیں کہ اس کی اصطلاح کے مطابق یہ لفظ استعارہ استعمال ہوا ہے تا کہ اسے دھوکا نہ لگے اور وہ ٹھوکر نہ کھائے۔اب رہا یہ سوال کہ کیا اس تعریف کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے آپ کو نبی کہا ہے ؟ تو اس کے لئے مندرجہ ذیل حوالے پیش کئے جاتے ہیں آپ فرماتے ہیں۔چونکہ میرے نزدیک نبی اسی کو کہتے ہیں جس پر خدا کا کلام یقینی قطعی بکثرت نازل ہو جو غیب پر مشتمل ہو اس لئے خدا نے میرا نام نبی رکھا مگر بغیر شریعت کے۔‘۵۷ اسی طرح فرماتے ہیں:- ”خدا تعالیٰ جس کے ساتھ ایسا مکالمہ مخاطبہ کرے کہ جو بلحاظ کمیت و کیفیت