انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 173 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 173

انوار العلوم جلد ۱۶ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔کہتے ہیں۔اور وہ خدا کے پاک مکالمات و مخاطبات سے مشرف ہوتے ہیں اور خوارق ان کے ہاتھ پر ظاہر ہوتے ہیں اور اکثر دعائیں ان کی قبول 6❝ ہوتی ہیں۔“۴ ۴۴۰۰ پھر فرماتے ہیں:- " خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک کلام پاکر جو غیب پر مشتمل ز بر دست پیشگوئیاں ہوں مخلوق کو پہنچانے والا اسلامی اصطلاح کی رو سے ۲۵ نبی کہلا تا ہے۔“ گزشتہ انبیاء کے نزدیک نبوت کی تعریف: پھر آپ فرماتے ہیں:- وو جبکہ وہ مکالمہ مخاطبہ اپنی کیفیت اور کمیت کی رو سے کمال درجہ تک پہنچ جائے اور اس میں کوئی کثافت اور کمی باقی نہ ہو اور کھلے طور پر امور غیبیہ مشتمل ہو تو وہی دوسرے لفظوں میں نبوت کے نام سے موسوم ہوتا ہے جس پر تمام نبیوں کا اتفاق ہے۔،، عربی اور عبرانی زبانوں کے مطابق نبی کی تعریف: پھر فرماتے ہیں:۔عربی اور عبرانی زبان میں نبی کے یہ معنے ہیں کہ خدا سے الہام پا کر بکثرت پیشگوئی کرنیوالا۔اور بغیر کثرت کے یہ معنے متحقق نہیں ہو سکتے۔“ مکتوب مندرجہ اخبار عام ۲۶ مئی ۱۹۰۸ء) پھر فرماتے ہیں:۔اور یہ بھی یاد رہے کہ نبی کے معنے لغت کے رو سے یہ ہیں کہ خدا کی طرف سے اطلاع پا کر غیب کی خبر دینے والا۔آپ کے نزدیک نبی کی تعریف: پھر فرماتے ہیں:- ،، آپ لوگ جس امر کا نام مکالمہ و مخاطبہ رکھتے ہیں میں اس کی کثرت کا نام بموجب حکیم الہی نبوت رکھتا ہوں۔“ اسی طرح فرماتے ہیں:- ،، خدا تعالیٰ جس کے ساتھ ایسا مکالمہ مخاطبہ کرے کہ جو بلحاظ کمیت و کیفیت دوسروں سے بہت بڑھ کر ہو اور اس میں پیشگوئیاں بھی کثرت سے