انوارالعلوم (جلد 16) — Page 143
انوار العلوم جلد ۱۶ اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔یہ اسلام کی تعلیم کا اعلیٰ نمونہ ہے اور ایک مفسر قرآن کی شان کے عین مطابق۔ان مبلغین اسلام کے اسلامی تعلیم کے نمونوں میں سے وہ نمونہ بھی قابل توجہ ہے جو مولوی محمد علی صاحب کی انجمن کے ایک مبلغ سید اختر حسین صاحب نے دکھایا ہے۔انہوں نے ،، ایک مضمون لکھا ہے جس کا عنوان ہے ' قادیانی خلیفہ محمد رسول اللہ صلعم کا بدترین دشمن ہے۔‘، ۳ کیا ہی اعلیٰ درجہ کا یہ اخلاقی نمونہ ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شان کو کس قدر بڑھانے والا مضمون ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ابو جہل، عتبہ، شیبہ پیدا ہوئے اور انہوں نے سخت سے سخت مخالفتیں کیں لیکن وہ بدترین دشمنی کا نمونہ پیش نہ کر سکے ، ابولہب بھی اس سے قاصر رہا اس کے بعد ہزاروں دشمن پیدا ہوئے پادریوں میں سے فنڈ ر، ہندوستان میں آتھم ، فتح مسیح اور وارث وغیرہ لوگ پیدا ہوئے۔ہندوؤں میں سے لیکھر ام اور مصنف ”رنگیلا رسول“ لوگ پیدا ہوئے مگر اسلام کو بدترین دشمن نہ ملا اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو پیدا کیا تا کہ ان کے نطفہ سے وہ شخص پیدا ہو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بدترین دشمن ثابت ہوا اور باوجود اس کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ خبر بھی دے دی کہ يَتَزَوَّجُ وَيُولَدُلَهُ " رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی محبت اور آپ کے ادب کی یہ ایک عمدہ مثال ہے۔دو مگر اسی پر بس نہیں مولوی صاحب کے بعض رفقاء نے مجھے یزید کے لقب سے یاد فرمایا اور بعض احمدی دوستوں نے اس کے خلاف احتجاج کیا تو مولوی صاحب نے ان کے زخم دل پر ان الفاظ میں مرہم رکھا کہ باقی رہا یہ کہ کسی نے میاں صاحب کو یزید سے مشابہت دے دی تو یہ کوئی گالی نہیں یزید بھی تو اُولُو الامر میں سے تھا ہر سمجھدار انسان سمجھ سکتا ہے کہ یہ جواب کیسا معقول ہے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر مولوی صاحب کو اس لئے کہ وہ امیر کہلاتے ہیں اور اولو الامر کا دوسرا نام عربی میں امیر ہے کوئی شخص یزید کہے تو یقینا وہ اس پر خوش نہ ہوں گے اور یہ نہ فرمائیں گے کہ یزید بھی اُولُو الا مر تھا اور میں بھی بوجہ امیر جماعت ہونے کے اُولُو الامر ہوں اس لئے یہ گالی نہیں بلکہ صرف میری شان کا اظہار ہے۔یه تمسخر مولوی صاحب نے مجھ سے نہیں کیا بلکہ ان تمام انبیاء سے جن کو خدا تعالیٰ نے مأمور کیا تھا ان سے کیا ہے اور خلفائے راشدین سے بھی کیا ہے کیونکہ حضرت موسی بھی اُو لُو الامر تھے ،