انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 137

66 اللہ تعالیٰ ، خاتم النبیین اور امام وقت۔انوار العلوم جلد ۱۶ اس نام سے ہمیں یاد کرتے ہیں حالانکہ نہ ہم نے اپنا یہ نام رکھا ، نہ دنیا میں ہم اس نام سے مشہور ہیں اور اس سے ان کی غرض اپنے مُریدوں کے دلوں میں ہمارے لئے تحقیر پیدا کرنا ہے۔کے کاش! مولوی صاحب ان الفاظ کو تحریر فرمانے سے پہلے اپنے گھر پر نظر ڈال لیتے اور حقیقت حال کو اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کرتے۔یہ امر ظاہر ہے کہ احمدی کہلانے والے دو گروہ اس وقت موجود ہیں اور دونوں ہی لوگوں میں معروف ہیں ان میں اختلاف بھی ہے اور ایک دوسرے کے بعض عقائد اور افعال سے وہ اپنے آپ کو بری بھی قرار دینا چاہتے ہیں اس ضرورت کے ماتحت جناب مولوی محمد علی صاحب اور ان کے رفقاء کو بار بار غیر احمدیوں میں یہ لٹریچر شائع کرنا پڑتا ہے کہ ” قادیانی لوگ مرزا صاحب کو نبی مانتے ہیں اور ہم انجمن احمد یہ اشاعت اسلام والے ایسے عقیدہ کو کفر قرار دیتے ہیں اسی طرح ہم لوگوں کو بھی اس عقیدہ سے براءت کرنی پڑتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باب ترقیات کو روکنے والے تھے اور قطعی وحی کا دروازہ بند کرنے والے تھے اور یہ کہ مسیح موعود اپنے درجہ اور مقام میں پہلے مسیح سے کم ہیں بلکہ سب نبیوں سے کم ہیں گویا جو کچھ ہے پہلا مسیح ہے دوسرا کچھ بھی نہیں اب ہم دونوں فریق احمدی کہلاتے ہیں اور اپنے آپ کو احمدی کر کے پیش کرتے ہیں۔لازماً اس مجبوری کی وجہ سے ہمیں کوئی علامت ایسی بیان کرنی پڑتی ہے جس سے دوسرے فریق کو سمجھایا جا سکے اور بولنے والے شخص اور مشار الیہ شخص میں کوئی امتیاز قائم ہو جائے اس غرض کو پورا کرنے کے لئے کبھی تو ہم اپنے آپ کو مبائع احمدی اور مولوی صاحب اور ان کے رفقاء کو غیر مبائع احمدی کہتے اور لکھتے ہیں اور کبھی ہم اپنے آپ کو قادیان سے تعلق رکھنے والے احمدی اور آپ لوگوں کو لاہور سے تعلق رکھنے والے احمدی بھی لکھتے رہے ہیں۔اس پر لاہور کی مبائع جماعت نے اعتراض کیا کہ لاہور میں نہ غیر مبائعین کا زور ہے نہ اکثریت۔اکثریت تو ہماری ہے اس طرح دھوکا لگتا ہے پس ان کو لاہوری یا لا ہور سے تعلق رکھنے والے نہ کہا جائے تب بعض لوگوں نے بطور شناخت آپ لوگوں کو پیغا می لکھنا شروع کر دیا۔اور بعض دفعہ یہ لفظ میں بھی استعمال کر لیتا ہوں اس میں گالی یا سب و شتم یا استہزاء یا تَنَابُزِ بِالَا لَقَابُ کا کیا دخل ہے۔کیا پیغام کوئی گندہ لفظ ہے یا اس سے مخفی اشارہ کسی اور تعلق کی نفی کا نکلتا ہے کہ جس کی وجہ سے آپ کو یہ بُرا لگتا ہے اگر ایسا ہے تو آپ اظہار فرما دیں ہم اس سے حتی الوسع اجتناب کرینگے۔جہاں تک مجھے معلوم ہے پیغام کا لفظ کسی خاص بُرے معنوں میں استعمال نہیں ہوتا اور نہ اس تعلق سے ضمنا یا اشارہ کسی اور تعلق کی نفی کا مفہوم نکلتا ہے سوائے اس کے کہ یہ مضمون نکلتا ہے