انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 94

انوار العلوم جلد ۱۶ ہوئے ہند وستان تک بڑھ آیا ، لیکن اس قلعہ کو وہ بھی درمیان میں چھوڑ گیا۔سیر روحانی (۲) پھر میں نے رومی حکومت کو مشرق کی طرف آتے رومی حکومت کا مشرق پر اقتدار ہوئے دیکھا اُس نے مصر فتح کیا ، طرابلس فتح کیا ، ایسے سینیا جو مکہ کے مقابل پر ہے اسے فتح کیا ، شام اور فلسطین کو فتح کیا ، شمالی عرب سے بعض علاقوں کو فتح کیا اور آخر عراق تک فتح کرتے ہوئے نکل گئے ، لیکن درمیان میں اس قلعہ کی طرف انہوں نے بھی رُخ نہ کیا۔ابرہہ کا بیت اللہ پر حملہ جب میں نے یہ دیکھا تو میں نے کہا یہ قلعہ واقعہ میں زمانہ کے عجائبات میں سے ہے کہ مشرق سے آندھی اُٹھتی ہے تو وہ اسے چھوڑ جاتی ہے اور مغرب سے طوفان اُٹھتا ہے تو اسے چھوڑ جاتا ہے مگر میں نے کہا کہ ابھی ایک سوال حل طلب ہے اور وہ یہ کہ ممکن ہے اس قلعہ کے جائے وقوع کے لحاظ سے فاتحین کو خیال بھی نہ آیا ہو کہ وہ اسے فتح کریں کیونکہ وہ اس میں کوئی فائدہ نہ دیکھتے تھے۔اس خیال کے آنے پر میں نے تاریخ پر نگاہ ڈالی اور میں نے دیکھا کہ چھٹی صدی مسیحی میں ایسے سینیا کی حکومت بہت طاقتور ہو گئی تھی اور اُس نے عرب کے بعض علاقوں کو فتح کر لیا تھا اُس کی طرف سے ابرہہ نامی ایک شخص یمن میں گورنر مقرر ہوا اور اس نے عرب میں مسیحیت کی اشاعت کے لئے کوشش شروع کی۔اور یمن کے دارالحکومت صنعاء میں اس نے ایک بہت بڑا گر جا بنایا اور خوف اور لالچ سے لوگوں کو اس گر جا کی طرف مائل کرنا شروع کر دیا ، مگر جب کچھ عرصہ کی کوششوں کے بعد اُس نے اپنے ارادہ میں ناکامی دیکھی اور اُسے محسوس ہوا کہ عرب اُس کی بات ماننے کے لئے تیار نہیں تو اس نے اپنے درباریوں کو بلایا اور ان سے مشورہ کیا کہ کیوں میری کوششیں کامیاب نہیں ہوتیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ مکہ میں ایک گھر ہے، عرب کے لوگ اسے چھوڑ نہیں سکتے۔جب تک وہ گھر موجود ہے صنعاء کا گر جا آباد نہیں ہوگا۔پس اگر صنعاء کو آباد کرنا چاہتے ہو تو اُسے جا کر گرا دو۔چنانچہ ابرہہ نے ۵۶۹ء میں ایک بہت بڑی فوج اور ہاتھی ساتھ لے کر مکہ کا رُخ کیا عرب قبائل نے مقابلہ کیا مگر ایک کے بعد دوسرا شکست کھاتا چلا گیا اور وہ مکہ سے تین دن کے فاصلہ پر مشرق کی طرف طائف تک جا پہنچا اور طائف کے لوگوں سے کہا کہ مکہ تک پہنچنے میں میری مدد کرو۔طائف والے جو مکہ پر اس لئے حسد کرتے تھے کہ ان کے بُت کی خانہ کعبہ کے آگے کچھ نہ چلتی تھی انہوں نے انعامات کے