انوارالعلوم (جلد 15) — Page 491
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده چنانچہ کہتے بات تو ٹھیک ہے جھگڑا چھوڑو اور کوئی اور بات کرو کچھ مدت تو اسی طرح ہوتا رہا اور علماء کی مجالس میں اس کی بڑی عزت و تکریم رہی۔مگر ایک دن مجلس میں یہ ذکر چل پڑا کہ زمانہ ایسا خراب آ گیا ہے کہ تعلیم یافتہ طبقہ خدا کا انکار کرتا چلا جاتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ اگر خدا ہے تو کوئی دلیل دو۔اس پر لوگوں نے حسب دستور ان سے بھی کہا کہ سنائیے مولا نا آپ کا کیا خیال ہے۔وہ کہنے لگا بحث فضول ہے کہ کچھ علماء نے لکھا ہے کہ خدا ہے اور کچھ علماء نے لکھا ہے کہ خدا نہیں۔یہ سنتے ہی لوگوں میں اس کا بھانڈا پھوٹ گیا اور انہوں نے دھکے دے کر اسے مجلس سے باہر نکال دیا۔تو دنیا میں اس کثرت سے اختلاف پایا جاتا ہے کہ اگر فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْء فردوه إلى الله والرسول کے یہ معنی کئے جائیں کہ جب بھی خلیفہ کے کسی حکم سے کسی کو اختلاف ہواس کا فرض ہے کہ وہ خلیفہ کو دھگا دے کر کہے کہ تیرا حکم خدا اور رسول کے احکام کے خلاف ہے تو اس کو اتنے دھکے ملیں کہ ایک دن بھی خلافت کرنی اس کیلئے مشکل ہو جائے۔پس یہ معنی عقل کے بالکل خلاف ہیں۔ہماری جماعت میں سے بھی بعض لوگوں کو اس آیت کا صحیح مفہوم نہ سمجھنے کی وجہ سے ٹھوکر لگی ہے اگر وہ صحیح معنی سمجھ لیتے تو ان کو کبھی ٹھو کر ننگتی۔اُولِى الأمْرِ مِنْكُمُ والی آیت دُنیوی حکام وہ صحیح معنی کیا ہیں ؟ ان کو معلوم کرنے کیلئے پہلے اور خلفائے راشدین دونوں پر حاوی ہے یہ سمجھ لینا چاہئے کہ یہ آیت عام ہے اس میں خالص دُنیوی حکام بھی شامل ہیں اور خلفاء راشدین بھی شامل ہیں پس یہ آیت خالص اسلامی خلفاء کے متعلق نہیں بلکہ دنیوی حکام کے متعلق بھی ہے۔اب اس بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہ یہ آیت اپنے مطالب کے لحاظ سے عام ہے اور اس میں خالص دنیوی حکام اور خلفاء راشدین دونوں شامل ہیں یہ سمجھ لو کہ اِن دونوں کے بارہ میں قرآن کریم اور رسول کریم عمل اللہ کے احکام الگ الگ ہیں۔جو خالص دُنیوی حکام ہیں ان کیلئے شریعتِ اسلامی کے الگ احکام ہیں۔اور جو خلفاء راشدین ہیں ان کیلئے الگ احکام ہیں۔پس جب خدا نے یہ کہا کہ فَإِن تَنَازَعْتُمْ في شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللهِ والرَّسُولِ تو اس کے یہ معنی نہیں کہ جب تمہارا اولی الامر سے جھگڑا ہو تو تم یہ دیکھنے لگ جاؤ کہ خدا اور رسول کا حکم تم کیا سمجھتے ہو بلکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ چونکہ اس عام حکم میں خلفاء راشدین بھی شامل ہیں اور دنیوی حکام بھی اس لئے جب اختلاف ہو تو دیکھو کہ وہ حکام کس قسم کے ہیں۔اگر تو وہ