انوارالعلوم (جلد 15) — Page 492
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت را شده خلفائے راشدین ہیں تو تم ان کے متعلق وہ عمل اختیار کرو جو اللہ تعالیٰ نے خلفاء راشدین کے بارہ میں بیان فرمایا ہے اور اگر وہ حکام دُنیوی ہیں تو ان کے بارہ میں تم ان احکام پر عمل کرو جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے ان کے متعلق بیان کئے ہیں۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ کیا ان دونوں قسم دونوں کے متعلق الگ الگ احکام کے اولی الامر کے متعلق اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے الگ الگ قسم کے احکام بیان کئے ہیں یا نہیں۔اگر کئے ہیں تو وہ کیا ہیں۔سو ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں قسم کے اولی الامر کی نسبت دو مختلف احکام بیان کئے ہیں جو یہ ہیں:۔صلى الله (۱) عبادہ بن صامت سے روایت ہے بَايَعْنا رَسُوْلَ اللهِ لا عَلَى السَّمْعَ وَالطَّاعَةِ فِي الْعُسْرِ وَالْيُسْرِ وَالْمَنْشَطِ وَ الْمَكْرَهِ وَ عَلَى آثَرَةٍ عَلَيْنَا وَ عَلَى أَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ وَ عَلَى أَنْ نَّقُولَ بِالْحَقِّ فَأَيْنَمَا كُنَّا لَا تَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ وَ فِي رِوَايَةٍ أَنْ لَّا تُنَازِعَ الأمْرَ أَهْلَهُ إِلَّا أَنْ تَرَوْا كُفْراً بَوَاحًا عِنْدَكُمْ مِنَ اللَّهِ فِيْهِ بُرْهَانٌ مَتَّفَقٌ عَلَيْهِ - ۲۲ یعنی ہم نے رسول کریم ﷺ کی ان شرائط پر بیعت کی کہ جو ہمارے حاکم مقرر ہوں گے ان کے احکام کی ہم ہمیشہ اطاعت کریں گے خواہ ہمیں آسانی ہو یا تنگی اور چاہے ہمارا دل ان احکام کے ماننے کو چاہے یا نہ چاہے بلکہ خواہ ہمارے حق وہ کسی اور کو دلا دیں۔پھر بھی ہم ان کی اطاعت کریں گے۔اسی طرح ہماری بیعت میں ایک شرط یہ بھی تھی کہ جب ہم کسی کو اہل سمجھ کر اس کے سپر د حکومت کا کام کر دیں گے تو اس سے جھگڑا نہیں کریں گے اور نہ اس سے بحث شروع کر دیں گے کہ تم نے یہ حکم کیوں دیا وہ دینا چاہئے تھا۔ہاں چونکہ ممکن ہے کہ وہ حکام کبھی کوئی بات دین کے خلاف بھی کہہ دیں اس لئے اگر ایسی صورت ہو تو ہمیں ہدایت تھی کہ ہم سچائی سے کام لیتے ہوئے انہیں اصل حقیقت سے آگاہ کر دیں اور خدا کے دین کے متعلق کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں۔ایک دوسری روایت میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ ہدایت تھی کہ جو لوگ حکومت کے اہل ہوں اور ان کے سپرد یہ کام تمہاری طرف سے ہو چکا ہو ان سے تم کسی قسم کا جھگڑا نہ کرو۔مگر یہ کہ تم ان سے گھلا گھلا کفر صادر ہوتے ہوئے دیکھ لو۔ایسی حالت میں جبکہ وہ کسی گھلے کفر کا ارتکاب کریں اور قرآن کریم کی نص صریح تمہاری تائید کر رہی ہوں تو تمہارا فرض ہے کہ تم اس خلاف مذہب بات میں ان کی