انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 405 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 405

انوار العلوم جلد ۱۵ تقریر جواب ایڈریس ہائے جماعتہائے اس صحابی کے متعلق فرمایا تھا کہ میں نے دیکھا ہے اس کے ہاتھوں میں کسری کے کڑے ہیں۔چنانچہ جب ایران فتح ہوا اور وہ کڑے جو کسری دربار کے موقع پر پہنا کرتا تھا غنیمت میں آئے تو حضرت عمر نے اس صحابی کو بلایا اور باوجود یکہ اسلام میں مردوں کے لئے سونا پہننا ممنوع ہے آپ نے اسے فرمایا کہ یہ کڑے پہنو۔حالانکہ خلفاء کا کام قیام شریعت ہوتا ہے نہ کہ اسے مٹانا مگر جب اس صحابی نے یہ کہا کہ سونا پہننا مردوں کے لئے جائز نہیں۔تو آپ نے فرمایا کہ یہ پہنو۔ور نہ میں کوڑے لگاؤں گا ہے اسی طرح میں نے یہ خیال کیا کہ گو یہ کڑے مجھے ہی پہنائے گئے ہیں مگر چونکہ اس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی پوری ہوتی ہے اس لئے اس کے منانے میں کوئی حرج نہیں اور اس لئے میرے دل میں جو انقباض تھا وہ دُور ہو گیا اور میری نظریں اس مجلس سے اُٹھ کر خدا تعالیٰ کی طرف چلی گئیں اور میں نے کہا ہمارا خدا بھی کیسا سچا خدا ہے۔مجھے یاد آیا کہ جب یہ پیشگوئی کی گئی اُس وقت میری ہستی ہی کیا تھی پھر وہ نظارہ میری آنکھوں کے سامنے پھر گیا جب ہمارے نانا جان نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس شکایت کی کہ آپ کو پتہ ہی نہیں یہ لڑکا کیسا نالائق ہے پڑھتا لکھتا کچھ نہیں اس کا خط کیسا خراب ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مجھے بلایا۔میں ڈرتا اور کانپتا ہوا گیا کہ پتہ نہیں یہ کیا فرما ئیں گے۔آپ نے مجھے ایک خط دیا کہ اسے نقل کرو۔میں نے وہ نقل کر کے دیا تو آپ نے حضرت خلیفہ اول کو جج کے طور پر بلایا اور فر مایا۔میر صاحب نے شکایت کی ہے کہ یہ پڑھتا لکھتا نہیں اور کہ اس کا خط بہت خراب ہے۔میں نے اس کا امتحان لیا ہے آپ بتائیں کیا رائے ہے؟ لیکن جیسا امتحان لینے والا نرم دل تھا ویسا ہی پاس کرنے والا بھی تھا۔حضرت خلیفہ اول نے عرض کیا کہ حضور ! میرے خیال میں تو اچھا لکھا ہے۔حضور نے فرمایا۔کہ ہاں اس کا خط کچھ میرے خط سے ملتا جلتا ہی ہے اور بس ہم پاس ہو گئے۔ماسٹر فقیر اللہ صاحب جو اب پیغامیوں میں شامل ہیں ہمارے اُستاد تھے اور حساب پڑھایا کرتے تھے جس سے مجھے نفرت تھی۔میری دماغی کیفیت کچھ ایسی تھی جو غالباً میری صحت کی خرابی کا نتیجہ تھا کہ مجھے حساب نہیں آتا تھا اور نہ اب تو اچھا آتا ہے۔ماسٹر صاحب ایک دن بہت ناراض ہوئے اور کہا کہ میں تمہاری شکایت کروں گا کہ تم حساب نہیں پڑھتے اور جا کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہہ بھی دیا۔میں بھی چُپ کر کے کمرہ میں کھڑا رہا۔حضور نے ماسٹر صاحب کی شکایت سُن کر فرمایا کہ اس نے دین کا کام ہی کرنا ہے اس نے کونسی کسی دفتر میں نوکری کرنی ہے۔مسلمانوں کے لئے جمع تفریق کا جاننا ہی کافی ہے۔وہ اسے آتا ہے یا نہیں ؟ ماسٹر صاحب