انوارالعلوم (جلد 15) — Page 389
انوار العلوم جلد ۱۵ اہم اور ضروری امور کو قبول کرے کیونکہ آپ کے بغیر اب کوئی خدا تعالیٰ تک پہنچانے کا ذریعہ نہیں۔اس کے علاوہ رسول کریم ﷺ کو ایک خصوصیت بھی حاصل تھی جو دراصل پہلی خصوصیت کا نتیجہ ہے اور وہ یہ کہ جس طرح رسول کریم اے بنی نوع انسان کو خدا تعالیٰ تک پہنچانے کا واحد ذریعہ تھے اسی طرح آپ خدا تعالیٰ کے اکلوتے روحانی بیٹے تھے اور آپ جانتے تھے کہ خدا تعالیٰ کی روحانی نسل اب میرے ذریعہ ہی دنیا میں قائم رہ سکتی ہے۔اس کے نتیجہ میں لازماً ایک اور بات بھی پیدا ہوگئی اور وہ یہ کہ اگر کسی شخص کے کئی بیٹے ہوں تو گو سب اس کی خدمت کرتے ہیں مگر پھر بھی ان کی محبت بیٹی ہوئی ہوتی ہے اور ان کو یہ احساس ہوتا ہے کہ ہمارے باپ کی خدمت کرنے والے اور بھی وجود ہیں لیکن اگر کسی کا ایک ہی بیٹا ہوتو وہ سمجھتا ہے کہ میرے سوا باپ کی خدمت کرنے والا اور کوئی نہیں اگر میں نے بھی اس کی خدمت نہ کی تو اور کون کرے گا۔غرض جس طرح اس باپ کی محبت کا رنگ بالکل جداگا نہ ہوتا ہے جس کا ایک ہی بیٹا ہو ، اسی طرح اُس بیٹے کی محبت کا رنگ بھی جداگانہ ہوتا ہے جو اکلوتا ہو۔یہی وجہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی محبت رسول کریم ﷺ سے نرالے رنگ کی تھی اسی طرح محمد رسول ﷺ کی اللہ تعالیٰ کے دین کیلئے خدمت بھی نرالے رنگ کی تھی کیونکہ آپ جانتے تھے کہ اب خدا تعالیٰ تک پہنچانے والا میرے سوا اور کوئی نہیں اور ساری ذمہ واری مجھ پر ہی ہے۔اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ رسول کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے دین کی جو خدمت کی وہ دوسرے انبیاء سے ہرگز نہیں ہوئی۔بے شک حضرت موسیٰ نے خدا تعالیٰ کے لئے قربانیاں کیں، بے شک حضرت عیسی نے خدا تعالیٰ کیلئے قربانیاں کیں، بے شک حضرت کرشن نے خدا تعالیٰ کیلئے قربانیاں کیں ، حضرت رام چندر نے خدا تعالیٰ کیلئے قربانیاں کیں۔اسی طرح حضرت زرتشت کے حالات کو پورے تو نہیں ملتے مگر جس قدر ملتے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کے دین کیلئے قربانیاں کیں مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ محمد رسول اللہ علیہ نے جو قر بانیاں کیں ان کی نظیر ہمیں کسی اور نبی میں نظر نہیں آتی اس لئے کہ ہر نبی جانتا تھا کہ اگر میرے ہاں کوئی نقص ہوا تو دوسرا نبی اس کو دور کر دے گا مگر محمد رسول اللہ ﷺ جانتے تھے کہ اب مجھ پر ہی تمام ذمہ واری ہے اس لئے آپ نے جس رنگ میں دین کی خدمت کی وہ بالکل بے نظیر ہے۔یہی وہ احساس تھا جس کے ماتحت محمد رسول اللہ ﷺ نے بدر کے موقع پر فرمایا کہ اے خدا ! اگر یہ جماعت ہلاک ہوگئی تو لَنْ تُعْبَدَ فِي الْاَرْضِ اَبَداً لے تیری اس کے بعد زمین پر کہیں پرستش نہیں ہو گی۔گویا جس طرح محمد رسول اللہ الا اللہ خدا تعالیٰ کے اکلوتے روحانی بیٹے تھے اسی طرح صحابہ