انوارالعلوم (جلد 15) — Page 8
انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی ہمیں چونکہ وقت نہیں ملا اس لئے معلوم ہوا کہ تمہیں صداقت معلوم کرنے کی کوئی تڑپ نہیں ، سکھ کہیں گے ہمیں چونکہ وقت نہیں دیا گیا اس لئے معلوم ہوا کہ احمدی سچ چھپانا چاہتے ہیں۔پس چونکہ اس طرح ہر ایک کو وقت دے کر ہمارے لئے کوئی وقت نہیں بچتا اور یوں بھی یہ مطالبہ بالکل لغو ہے اس لئے میں نے انہیں لکھا کہ یہ طریق درست نہیں آپ الگ بے شک تقریریں کریں میں آپ کو نہیں روکتا۔باقی ہمارے جلسہ کے ایام میں میں نہیں کہہ سکتا کہ کسی اور جلسہ کے کرنے کی اجازت آپ کو حکومت کی طرف سے ملے یا نہ ملے کیونکہ ۱۹۳۴ء میں احرار کے جلسہ کے وقت ہمیں یہ نوٹس دیا گیا تھا کہ ہم ان کے جلسہ سے پانچ دن پہلے اور پانچ دن بعد کوئی جلسہ منعقد نہیں کر سکتے حالانکہ قادیان ہمارا مذہبی مرکز ہے اور ہم اس میں ہر وقت جلسہ کرنے کا حق رکھتے ہیں۔میں نے اس کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں لکھا کہ محکمہ کی اس معاملہ میں گورنمنٹ سے بحث ہو رہی ہے مگر انہوں نے اس کے یہ معنی نکال لئے کہ گویا انہیں ہماری طرف سے ان دنوں تقریر کرنے کی اجازت ہے۔حالانکہ گورنمنٹ سے ہماری یہ بحث ہو رہی ہے کہ تم نے احرار کے جلسہ کے ایام میں ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ ہم اس جلسہ سے پانچ دن پہلے اور پانچ دن بعد کوئی جلسہ منعقد نہ کریں۔پس اسی حکم کی بناء پر ہم بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ یہی حق ہمارے متعلق تسلیم کیا جائے اور جب ہمارا جلسہ ہو تو اس سے پانچ دن پہلے اور پانچ دن بعد کسی کو جلسہ کرنے کی اجازت نہ ہو۔پس مصری صاحب کا ۲۹۔دسمبر کو کوئی جلسہ منعقد کرنا اور اس میں اپنا لیکچر رکھنا درحقیقت اس حق کے خلاف ہے لیکن چونکہ اس کا تعلق حکومت سے تھا مجھے مصری صاحب کو اس بارہ میں کچھ کہنے کی ضرورت نہ چونکہ کا سےتھا کو اس بارہ میں کی ضرورت نہ یہ صاف بات ہے کہ اگر کسی کو یہ کہا جائے کہ دوسرے کی حق بات بھی نہ سنو تو یہ جبر ہوگا اور جبر اسلام میں جائز نہیں۔پس جو شخص ابھی حقیقت کو سمجھنا چاہتا ہے یا تحقیق کرنا چاہتا ہے تو اس کے لئے جائز ہے کہ وہاں جائے مگر جو شخص تحقیق کر چکا ہے اور عَلى وَجْهِ الْبصیرت اُس نے میری بیعت کی ہے ہم اس کو اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ وہاں جائے۔سوائے اس کے کہ وہ مباحث یا مناظر ہو یا مباحث و مناظر کا مددگار ہو۔مؤمن کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہوتا اور نہ وہ کوئی بے فائدہ اور لغو کام کرتا ہے اگر میں اس قسم کی دعوتیں قبول کرنا شروع کر دوں تو مجھے روزانہ چٹھیاں آنی شروع ہو جائیں کہ آج فلاں جگہ ہماری تقریر ہے آپ اس میں ضرور شریک ہوں۔دوسری جگہ ہمارا جلسہ ہے آپ بھی آئیں اور سنیں اور اگر ایسی چٹھیاں آئیں تو میرا ایک ہی