انوارالعلوم (جلد 15) — Page 9
انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی جواب ہو گا اور وہ یہ کہ میں نے علی وجہ البصیرت احمدیت کی صداقت کا مشاہدہ کر لیا ہے۔پس دوسری بات میرے لئے پیدا ہی نہیں ہو سکتی۔کیا دنیا میں تم نے کبھی دیکھا کہ کسی شخص نے دوسرے سے کہا ہو کہ آؤ ہمارے ساتھ چلو فلاں جگہ بحث ہوگی کہ تمہاری جو بیوی ہے وہ تمہاری ہی بیوی ہے یا کسی اور کی۔کون اُتو ہے؟ جو ایسے شخص کے ساتھ چلے گا وہ تو کہے گا کہ میرے لئے یہ بات اُسی وقت سے حل شدہ ہے جب سے وہ میرے گھر میں بس رہی ہے۔(الفضل ۲۰ / دسمبر ۱۹۳۸ء) آج جس مضمون کو میں بیان کرنا چاہتا ہوں وہ عجیب نوعیت کا ہے یعنی ایسا ہے کہ اگر چاہوں تو ایک فقرہ کہہ کر بیٹھ جاؤں اور مضمون ختم ہو جائے اور اگر چاہوں اور اللہ تعالیٰ توفیق دے تو کئی دن بارہ بارہ گھنٹے تقریریں ہوتی رہیں مگر یہ مضمون ختم نہ ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ میں چار پانچ گھنٹے میں ایک حد تک اس مضمون کو بیان کر دوں۔سو وقت کو مد نظر رکھتے ہوئے میں اس آخری اور وسطی طریق کو ہی اختیار کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں وَ اللهُ الْمُوَفِّقُ سب سے پہلے میں جماعت کو اس امر کی ، قومی زندگی کے قیام کے اصول طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ جماعت کو یہ امرا چھی طرح یاد رکھنا چاہئے کہ دو اصول ایسے ہیں جو دنیا میں ہمیشہ سے کارفرما ہیں اور قومی زندگی کبھی ان دو اصول کے بغیر قائم نہیں رہتی۔آدم سے لے کر اس وقت تک دینی کیا اور دنیوی کیا، عقلی کیا اور علمی و عملی کیا، کوئی تحریک ایسی نہیں جو حقیقی طور پر اُس وقت تک کامیاب ہوئی ہو جب تک کہ یہ دو باتیں اس کے ساتھ شامل نہ ہوں۔اول اصول یہ ہے کہ کوئی ہر تحریک کے ساتھ ایک پیغام کی ضرورت تحریک دنیا میں حقیقی طور پر کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک اس میں کوئی نیا پیغام نہ ہو یعنی وہ کوئی ایسی چیز دنیا کے سامنے پیش نہ کر رہی ہو جو پہلے کسی کو معلوم نہ ہو۔یا کم سے کم یہ کہ اُس وقت کے لوگ اُسے بُھول چکے ہوں۔مثلاً ہمارے اس ملک میں ایسی انجمنیں کامیابی سے چلتی ہیں جن کی غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کو تحریک کریں کہ لڑکوں کو سکول بھیجنا چاہئے ، کیونکہ ہمارے ملک میں لڑکے عام طور پر سکول نہیں جاتے لیکن لنڈن یا برلن میں اگر کوئی اس قسم کی انجمن بنے جس کی غرض لوگوں کو یہ تحریک کرنا ہو کہ تم بچے سکولوں میں پڑھنے کیلئے بھیجا کرو تو وہ بھی نہیں چلے گی کیونکہ لوگ کہیں گے جب ہم میں۔