انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 345 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 345

انوار العلوم جلد ۱۵ پولینڈ کے ضروری حصہ کو ہضم کر سکے گا۔روس اور موجودہ جنگ پس میرے نزدیک انگلستان کے مدبرین کو اس مدترین برطانیہ سے خطاب صورت حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیاری کرنی چاہئے اور اس دھو کے میں نہیں رہنا چاہئے کہ یہ روسی حملہ جرمنی کے خطرہ کی وجہ سے ہے۔یہ جرمنی کے خطرہ کی وجہ سے نہیں بلکہ سابق سمجھوتہ کے ماتحت ہے اور اب روس اور جرمنی انگریزوں کی طاقت کو توڑنے کے لئے متحد ہو چکے ہیں۔بے شک ان میں شدید اختلاف ہیں ، بے شک وہ ایک وقت میں ظاہر ہوں گے لیکن کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ اختلافات ابھی ظاہر ہو جائیں گے۔ممکن ہے اللہ تعالیٰ فضل کر کے گل ہی جرمنی اور روس میں لڑائی چھڑ واوے ممکن ہے با وجود معاہدہ کے روس دل میں یہ ارادہ رکھتا ہو کہ پہلے صلح سے پولینڈ میں داخل ہو جاؤں پھر جرمنی سے نپٹ لوں گا اور چند ہی دنوں میں کسی بہانہ سے جرمنی سے لڑ پڑے۔سیاسی میدانوں میں ایسے دھو کے پہلے ہو چکے ہیں۔ترکی سے جب بلقانی طاقتوں نے جنگ کی ہے تو انہوں نے یہی کیا تھا۔رومانیہ، سرویا اور یونان نے بلغاریہ کے ساتھ معاہدہ کر کے اپنے ساتھ ملا لیا تھا لیکن اندرونی طور پر آپس میں ایک اور معاہدہ بھی کر چھوڑا تھا کہ اگر ترکی پر ہمیں فتح حاصل ہوگئی تو ہم بلغاریہ کو وہ کچھ نہیں دیں گے جس کا ہم نے معاہدہ کیا ہے۔چنانچہ ترکی پر فتح پاتے ہی انہوں نے بلغاریہ پر حملہ کر کے اس کے بعض حصے چھین لئے۔پس اب بھی ایسا ہو سکتا ہے مگر یہ سب امکانات ہیں اگر پورے ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اگر نہ ہوں تو ان حالات کے لئے برطانیہ کو پہلے سے تیار ہو جانا چاہئے اور صرف امیدوں پر اپنی تیاری کا انحصار نہیں رکھنا چاہئے۔میں سمجھتا ہوں روس انگلستان اور ترکی کے اتحاد میں دنیا کا امن ہے کی وجہ سے ترکی سے جو انگریزی اتحاد ہو چکا ہے وہ بھی خطرہ میں ہے اور انگلستان کو اسے اور بھی پکا کرنے کی سر توڑ کوشش کرنی چاہئے کیونکہ اگر روس جنگ میں شامل ہوا تو اتحادی طاقتوں کی کامیابی کا انحصار صرف اور صرف عالم اسلامی سے تعاون پر ہوگا اور یہ تعاون مکمل طور پر حاصل نہیں ہوسکتا جب تک ترکی حکومت اتحادیوں کے ساتھ نہ ہو۔باقی رہی موجودہ جنگ۔اگر اتحادی میری بات مانیں اتحادیوں کو کیا کرنا چاہئے تو ان کیلئے سب سے بہتر بات یہ ہے کہ وہ روس کے