انوارالعلوم (جلد 15) — Page 283
انوار العلوم جلد ۱۵ ۴۵ سیر روحانی تقریر (۱) شقتما ت کے کیا معنے ہوئے ، جب خدا نے اُن کی بھوک ہی بند کر لی تھی تو اس کے بعد انہیں یہ کہنا کہ اب خوب کھاؤ پیو بالکل بے معنی تھا۔پس محلا کے لفظ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ انہیں بھوک لگتی تھی مگر ساتھ ہی انہیں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کا بھی حکم دیا گیا تھا۔انہیں کہا گیا تھا کہ باغ ساری کمیونٹی کی ملکیت ہے مگر دیکھو! قاعدہ کے مطابق کھاؤ پیو۔اگر کسی کو زیادہ ضرورت ہے تو وہ زیادہ لے لے اور اگر کسی کو کم ضرورت ہے تو وہ کم لے لے۔پس اِنَّ لكَ الَّا تَجُوعَ فيها ولا تغرى اس نئے نظام کی تفصیل ہے جو حضرت آدم علیہ السلام کے ذریعہ قائم کیا گیا اور انہیں بتایا گیا کہ اگر اس نئے نظام کے ماتحت رہو گے تو تمہیں یہ یہ سہولتیں حاصل ہونگی۔(۷) قرآن کریم سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت الہامی طور پر بعض بوٹیوں کے خواص وغیرہ بتائے گئے تھے اور بعض اخلاقی احکام بھی دیئے گئے تھے چنانچہ آیت وعلم ادم الاسماء كلها ٢٥ اس پر دال ہے مگر یہاں گل کے معنے ضرورت کے مطابق ہیں، جیسا بد بد ملکہ سبا کے متعلق کہتا ہے أُوتِيتُ مِن كُل شَيء " کہ ملکہ سبا کے پاس سب کچھ موجود ہے حالانکہ جب اُس نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس تحفہ بھیجا تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے اُس وقت کہا تھا کہ میرے پاس تو اس سے بھی بڑھ کر چیزیں ہیں میں ان تحفوں سے کیونکر متاثر ہو سکتا ہوں۔پس جب حضرت سلیمان علیہ السلام کہتے ہیں کہ میرے پاس ملکہ سبا سے بڑھ کر مال و دولت اور سامان موجود ہے اور اس کے با وجود ہد ہد کہتا ہے کہ أُوتِيَتْ مِن كُلّ شَيْء ملکہ سبا کو ہر چیز میسر تھی تو یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اوتيت من محل شي ء سے یہ مراد نہیں تھی کہ ملکہ سبا کو ہر نعمت میسر تھی بلکہ یہ مراد تھی کہ اس کی مملکت کے لحاظ سے جس قدر چیزوں کی ضرورت ہو سکتی تھی وہ تمام چیز میں اُسے حاصل تھیں اس طرح عَلمَ ادَمَ الأَسْمَاء كُتهَا ہے مراد ہے کہ اُس وقت جس قدر علوم کی ضرورت تھی وہ تمام آدم کو سکھا دیئے گئے مثلاً یہ بتا دیا گیا کہ فلاں فلاں زہریلی بوٹیاں ہیں ان کو کوئی شخص استعمال نہ کرے، یا فلاں زہریلی چیز اگر کوئی غلطی سے کھالے تو فلاں بوٹی اس کی تریاق ہو سکتی ہے یا ممکن ہے اسی طرح طاقت کی بعض دوائیں الہامی طور پر بتا دی گئی ہوں۔اسی طرح بعض اخلاقی احکام بھی حضرت آدم علیہ السلام کو الہا ما بتائے گئے ہوں۔سے یہ