انوارالعلوم (جلد 15) — Page 282
انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) درخت چلے جاتے ہیں اور وہاں کے لوگ جن دنوں شریفہ پکتا ہے روٹی کھانی بالکل چھوڑ دیتے ہیں اور صبح شام شریفے ہی کھاتے رہتے ہیں۔اب تو گورنمنٹ انہیں نیلام کر دیتی ہے پہلے حکومت بھی ان کو نیلام نہ کیا کرتی تھی اور لوگ مفت پھل کھاتے تھے۔اسی طرح افریقہ میں آموں کے جنگل کے جنگل پائے جاتے ہیں، کیلے بھی بڑی کثرت سے ہوتے ہیں ، اسی طرح ناریل وغیرہ بھی بہت پایا جاتا ہے، اسی طرح بعض علاقوں میں سیب، خوبانی وغیرہ خود رو کثرت سے پائے جاتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے کسی ایسے ہی مقام کو حضرت آدم علیہ السلام کے لئے منتخب فرمایا اور انہیں حکم دے دیا کہ وہاں جا کر ڈیرے لگا دو اور خوب کھاؤ پیو۔خلاصہ یہ کہ الجنة وغیرہ الفاظ سے جو قرآن کریم میں استعمال ہوئے ہیں، یہ معلوم ہوتا ہے کہ اُس وقت عام طور پر لوگوں کی غذا پھل تھے۔(۵) پانچویں بات قرآن کریم سے یہ معلوم ہوتی ہے کہ اُس وقت ابھی کپڑے کی ایجاد نہیں ہوئی تھی اور اس پر آیت طفقا يخصفنِ عَلَيْهِمَا مِن وَرَقِ الْجَنَّةِ " شاہد ہے وہ چٹائیوں کی طرح بھوج پتر وغیرہ لپیٹ لیتے تھے اور رہائش کے لئے انہی کے خیمے بنالیتے تھے۔اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ابھی شکار کرنے کے طریق بھی ایجاد نہ ہوئے تھے اور کھالوں کا استعمال بھی شروع نہ ہو ا تھا بلکہ چٹائیاں بطور لباس اور شاید بطور مکان کے استعمال ہوتی تھیں، اگر شکار کرنے کے طریق ایجاد ہو چکے ہوتے تو وہ کھالوں کا لباس پہنتے۔(1) اُن میں تمدنی حکومت قائم کی گئی تھی اور تمدنی حکومت کی غرض یہ بتائی گئی تھی کہ ایک دوسرے کی (۱) کھانے کے معاملہ میں مدد کریں (۲) پینے کے معاملہ میں مدد کریں (۳) عُریانی کو دور کرنے کے معاملہ میں مدد کریں اور (۴) رہائش کے معاملہ میں مدد کریں۔چنانچہ فرمایا۔اِن لَكَ الا تجوع فيها ولا تغرى وانك لا تظموا فيها ولا تضحی ٢٣ کہ تمہارے لئے اس بات کا فیصلہ کیا گیا ہے کہ تم جنت میں رہنے کی وجہ سے بھو کے نہیں رہو گے، پیاسے نہیں رہو گے ، ننگے نہیں رہو گے اور دُھوپ میں نہیں پھرو گے گویا کھانا ، پانی ، کپڑا اور مکان یہ چار چیزیں تمہیں اس تعاونی حکومت میں حاصل ہونگی ان الفاظ سے جیسا کہ بعض لوگ غلطی سے سمجھتے ہیں یہ مراد نہیں کہ انہیں بھوک ہی نہیں لگتی تھی کیونکہ اگر انہیں بھوک نہیں لگتی تھی تو وَعُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْتُ