انوارالعلوم (جلد 15) — Page 100
انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی خدمت قومی کے متعلق فرماتے ہیں اِنَّ صَبرٍ أَحَدِ كُمْ سَاعَةً فِي ۳۔خدمت قومی بَعْضِ مَوَاطِنِ الْإِسْلامِ خَيْرٌ لَّهُ مِنْ أَنْ يَعْبُدَ اللَّهَ أَرْبَعِيْنَ يَوْمًا ۷ کہ اگر اسلام کی خدمت میں کوئی شخص تم میں سے ایک گھنٹہ خرچ کرتا ہے جس کا اسے کوئی ذاتی فائدہ نہیں پہنچتا تو وہ چالیس دن کی عبادت سے زیادہ ثواب حاصل کرتا ہے۔رزق حلال کے متعلق فرماتے ہیں اَلْعِبَادَةُ عَشَرَةُ أَجْزَاء تِسْعَةٌ مِنْهَا ۴۔رزق حلال فِي طَلَبِ الْحَلالِ ۹ کہ خدا تعالیٰ کی عبادت کے دس حصے ہیں۔ایک حصہ عبادت کا تو نماز، روزہ، حج اور زکوۃ ہے مگر عبادت کے نو حصے رزق حلال کھانا ہے۔گویا اگر تم نمازیں بھی پڑھتے ہو ، روزے بھی رکھتے ہو ، حج بھی کرتے ہو، زکوۃ بھی دیتے ہو لیکن اپنی تجارت میں دھوکا بازی کرتے ہو، تو تم ایک حصہ دودھ میں نو حصے ناپا کی ملا دیتے ہو اور اپنی تمام عبادت کو ضائع کر لیتے ہو۔یا اگر تم کسی کو ایک پیسہ کی چیز دینے لگتے ہو اور تکڑی کا پلڑا ذرا سا جُھکا دیتے ہو تو تم اس ذراسی بے احتیاطی یا ذراسی چالا کی اور ہوشیاری سے اپنے حلال مال میں نو (۹) حصے گندگی کے ملا دیتے ہو اور اپنی ساری عمر کی عبادتوں کو ضائع کر لیتے ہو کیونکہ نماز ، روزہ کے احکام بجالا کر صرف دسواں حصہ حق کا ادا ہوتا ہے، باقی نو (۹) حصے اللہ تعالیٰ کے حق کے رزق حلال کما کر ادا ہوتے ہیں۔۵۔پستی اور محنت سستی اور محنت سے کام کرنے کے متعلق فرماتے ہیں اغل عَمَلَ امْرِيُّ يَظُنُّ اَنْ لَّنْ يَمُوْتَ اَبَدًا وَاحْذَرُ 99 حَذَرَ امْرِيُّ يَخْشَى أَنْ يَمُوْتَ غَدًا 19 کہ جب تم دنیا کے کام کرو تو یا درکھو اسلامی تعلیم اُس وقت یہ ہے کہ ایسی محنت اور ایسی چُستی سے کرو گویا تم نے ہمیشہ زندہ رہنا ہے اور کبھی مرنا ہی نہیں۔یہ نہ ہو کہ تم کہو کیا کام کرنا ہے مر تو جانا ہی ہے یا کیوں خواہ مخواہ محنت کریں انجام تو فنا ہی ہے۔فرماتا ہے دُنیا کے کام اس طرح نہیں بلکہ اس طرح کرو کہ گویا تمہیں موت کا خیال تک نہیں وَاحْذَرُ حَذَرَامُرَئُ يَخْشَى أَنْ يَمُوتَ غَدًا لیکن دین کے معاملہ میں اس طرح ڈرتے ڈرتے کام کرو گویا تم نے کل ہی مر جانا ہے۔یہ دو مقام ہیں جو تمہیں حاصل ہونے چاہئیں۔یعنی ایک طرف تم میں اتنی پستی اور اتنی پھر تی ہو کہ گویا تم نے کبھی مرنا ہی نہیں اور دوسری طرف اتنی خشیت ہو کہ گو یا تم نے جینا ہی نہیں۔