انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 85

انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی جن سے پہلے مسلمانوں نے ترقی کی اور جن سے موجودہ مسلمان بھی ترقی کر سکتے ہیں۔مگر قرآن کو تو انہوں نے بند کر کے رکھ دیا ہے اور مغربیت کی طرف آنکھیں اُٹھا اُٹھا کر دیکھ رہے ہیں جس طرح چڑیا کا بچہ بیٹھا ماں کی راہ تک رہا ہوتا ہے۔ان کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے کہتے ہیں کہ ایران کے بادشاہ نے ایک دفعہ ہندوستان کے آم کی تعریف سنی اور اس کے دل میں شوق پیدا ہو ا کہ آم کھائے۔بادشاہ نے ہندوستان میں اپنا سفیر بھیجا کہ جا کر آم لے آؤ۔جب وہ یہاں پہنچا تو آم کا موسم نکل چکا تھا لیکن بادشاہ نے یہ خیال کر کے کہ یہ شاہ ایران کا سفیر ہے اور دُور سے آیا ہے، دہلی اور اس کے گردونواح میں آم کی بڑی تلاش کرائی۔آخر اسی تلاش اور جد و جہد کے نتیجہ میں ایک بے موسم کا آم مل گیا مگر سخت کھنا اور ریشہ دار۔بادشاہ نے اُس سفیر کو بلا کر کہا کہ آم کی شکل آپ دیکھ لیں ایسی ہی شکل ہوتی ہے مگر ذائقہ بہت میٹھا ہوتا ہے۔یہ جو آم میلا ہے یہ کچھ اچھا نہیں لیکن چونکہ آپ نے اب واپس جانا ہے اس لئے ذرا اسے چکھ لیں تا آپ بادشاہ کے سامنے آم کی حقیقت بیان کر سکیں۔اُس نے چکھا تو سخت کھٹا اور بدمزا تھا۔جب وہ واپس گیا اور شاہ ایران نے اس سے آم کی کیفیت پوچھی تو اس نے کہا کہ مجھے ہندوستانیوں کی عقل کے متعلق شبہ پیدا ہو گیا ہے۔وہ کہنے لگا کیوں؟ اُس نے کہا وہ آم کی بڑی تعریف کرتے ہیں اور آپ نے بھی آم ہی کے لئے مجھے بھیجا تھا مگر میں جو آم چکھ کر آیا ہوں اُس کی کیفیت آپ اس چیز سے معلوم کر سکتے ہیں یہ کہہ کر اس نے ایک پیالہ پیش کیا جس میں املی کا ریشہ اور تھوڑا سا پانی پڑا ہوا تھا۔بادشاہ دیکھ کر سخت متعجب ہوا اور اس نے کہا کہ ہیں ! ہندوستانی ایسی لغوھے کی اس قدر تعریف کرتے ہیں؟ یہی حال آج کل مسلمانوں کا ہے۔وہ قرآن کریم کے علوم سے بنگالی بے بہرہ ہو گئے ہیں اور قرآن کریم ان کے لئے ایک مُردہ کتاب بن گیا ہے اور اب جو کچھ ان کے سامنے ہے اس کو اور قرآن کریم کو آپس میں وہی نسبت حاصل ہے جو اعلیٰ اور لذیذ آم کو پانی میں بھگوئی ہوئی املی سے ہوتی ہے۔حالانکہ تمام حُسن اسلام میں ہے، تمام خوبیاں اسلام میں ہیں اور یورپ نے اصول علم میں جو کچھ سیکھا ہے اسلام اور مسلمانوں کی خوشہ چینی کر کے سیکھا ہے مگر مسلمانوں کو چونکہ اس کا علم نہیں اس لئے وہ مغربیت کے دلدادہ ہو گئے ہیں۔غرض اس زمانہ میں اسلام کی تعلیم بطور گل کے کہیں نہیں پائی مغربیت کے اُصول جاتی صرف ٹکڑے ٹکڑے پائی جاتی ہے اور اصل اسلامی تعلیم کو ،