انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 536 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 536

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت را شده بات نہیں۔جب نبوت کا سوال آئے گا تو ہم کہیں گے کہ ابو بکر نبی نہیں ، عمر نبی نہیں ، عثمان نبی نہیں ، علی نبی نہیں مگر جب تمکین دین کا سوال آئے گا تو ہم کہیں گے کہ اس حصہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع خلفاء یقیناً پہلے انبیاء سے بڑھ کر ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کے انبیاء چونکہ کامل شریعت لے کر نہ آئے تھے اس لئے اُن کے بعد یا نبی مبعوث ہوئے یا ملوک پیدا ہوئے۔چنانچہ جب اصلاح خلق کیلئے الہام کی ضرورت ہوتی تو نبی کھڑا کر دیا جاتا مگر اُسے نبوت کا مقام براہِ راست حاصل ہوتا اور جب نظام میں خلل واقع ہوتا تو کسی کو بادشاہ بنا دیا جاتا اور چونکہ لوگوں کو ابھی اس قدر ذہنی ارتقاء حاصل نہیں ہوا تھا کہ وہ اپنی اصلاح کے لئے آپ جد و جہد کر سکتے اس لئے نہ صرف انبیا ء کو اللہ تعالٰی براہِ راست مقام نبوت عطا فرما تا بلکہ ملوک بھی خدا کی طرف سے ہی مقرر کئے جاتے تھے۔جیسے قرآن کریم میں آتا ہے کہ ان الله قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوتٌ مَلِكًا ۲۴ طالوت کو تمہارے لئے خدا نے بادشاہ بنا کر بھیجا ہے۔گویا ابھی لوگ اس قابل نہیں ہوئے تھے کہ خود اپنے بادشاہ کا بھی انتخاب کر سکیں اور نہ شریعت اتنی کامل تھی کہ اُس کے فیضان کی وجہ سے کسی کو مقام نبوت حاصل ہوسکتا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ ایک کامل تعلیم لے کر آئے تھے اس لئے دونوں قسم کے خلفاء میں فرق ہو گیا۔پہلے انبیاء کے خلیفے تو نبی ہی ہوتے تھے گو انہیں نبوت مستقل اور براہ راست حاصل ہوتی تھی اور اگر انتظامی امور چلانے کیلئے ملوک مقرر ہوتے تو وہ انتخابی نہ ہوتے بلکہ یا تو ورثہ کے طور پر ملوکیت کو حاصل کرتے یا نبی انہیں اللہ تعالیٰ کے حکم کے ما تحت بطور بادشاہ مقرر کر دیتے۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم چونکہ زیادہ اعلیٰ درجہ کی تھی اس لئے آپ کے بعد خلفاء انبیاء کی ضرورت نہ رہی اس کے ساتھ ہی ملوکیت کی ادنی صورت کو اُڑا دیا گیا اور اُس کی ایک کامل صورت آپ کو دی گئی اور یہ ظاہر ہے کہ اسلامی خلافت کے ذریعہ سے جس طرح قوم کے ساتھ وعدہ پورا ہوتا ہے کہ اُس میں انتخاب کا عنصر رکھا گیا ہے اور قومی حقوق کو محفوظ کیا گیا ہے وہ پہلے بادشاہوں کی صورت میں نہ تھا اور زیادہ کامل صورت کا پیدا ہو جانا وعدہ کے خلاف نہیں ہوتا۔جیسے اگر کسی کے ساتھ پانچ روپے کا وعدہ کیا جائے اور اُسے دس روپے دے دیئے جائیں تو یہ نہیں کہا جائے گا کہ وعدہ کی خلاف ورزی ہوئی۔پس اس کے صرف یہ معنی ہیں کہ جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہلوں سے افضل تھے آپ کی خلافت بھی پہلے انبیاء کی خلافت سے افضل تھی۔