انوارالعلوم (جلد 15) — Page 537
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده عُلَمَاءُ أُمَّتِى كَانْبِيَاءِ بنى اِسْرَائِيلَ دوسرا جواب یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔مُراد روحانی خلفاء ہی ہیں عُلَمَاءُ أُمَّتِي كَانُبِيَاء بني إِسْرَائِيلَ ۶۵ یعنی میری اُمت کے علماء انبیاء بنی اسرائیل کی طرح ہیں۔اس کے یہ معنی نہیں کہ امت محمدیہ کا جو بھی عالم ہے وہ انبیاء بنی اسرائیل کی طرح ہے کیونکہ علماء کہلانے والے ایسے ایسے لوگ بھی ہیں جن کی دینی اور اخلاقی حالت کو دیکھ کر رونا آتا ہے۔میری عمر کوئی دس گیارہ برس کی ہوگی کہ نانا جان مرحوم کے ساتھ بعض چیزیں خریدنے کیلئے میں امرتسر گیا۔رام باغ میں میں نے دیکھا کہ ایک مولوی صاحب ہاتھ میں عصا اور تسبیح لئے اور ایک لمبا سا جبہ پہنے جا رہے ہیں اور اُن کے پیچھے پیچھے ایک غریب شخص اُن کی منتیں کرتا جاتا ہے اور کہتا جاتا ہے کہ مولوی صاحب مجھے خدا کیلئے روپے دے دیں، مولوی صاحب مجھے خدا کیلئے روپے دے دیں۔مولوی صاحب تھوڑی دیر چلنے کے بعد اس کی طرف مڑ کر دیکھتے اور کہتے جا خبیث دُور ہو۔آخر وہ بیچارہ تھک کر الگ ہو گیا۔میں نے اس شخص سے پوچھا کہ کیا بات تھی۔وہ کہنے لگا میں نے اپنی شادی کیلئے بڑی مشکلوں سے سو دو سو روپیہ جمع کیا تھا اور اس شخص کو مولوی اور دیندار سمجھ کر اس کے پاس امانتاً رکھ دیا تھا مگر اب میں روپیہ مانگتا ہوں تو یہ دیتا نہیں اور کہتا ہے کہ میں تجھے جانتا ہی نہیں کہ تو کون ہے اور تو نے کب میرے پاس روپیہ رکھا تھا۔اب بتاؤ ایسے علما ء كَأَنْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ ہو سکتے ہیں ؟ اور کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث ان جنگ اسلام علماء کے متعلق ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ ان علماء سے مراد دراصل خلفاء ہیں جو علماء رُوحانی ہوتے ہیں اور اس ارشاد نبوی سے اس طرح اشارہ کیا گیا ہے کہ پہلے نبیوں کے بعد جو کام بعض دوسرے انبیاء سے لیا گیا تھا وہی کام میری اُمت میں اللہ تعالیٰ بعض علما ءور بانی یعنی خلفائے راشدین سے لے گا۔چنانچہ موسیٰ کے بعد جو کام یوشع سے لیا گیا وہ اللہ تعالیٰ ابو بکر سے لے گا اور جو کام داؤد سے لیا گیا وہ اللہ تعالیٰ عمر سے لے گا اور جو کام بعض اور انبیاء مثلاً سلیمان وغیرہ سے لیا گیا وہ اللہ تعالیٰ عثمان اور علی سے لے گا۔غرض رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں اس امر کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے وہ مقام بخشا ہے کہ میری اُمت کے خلفاء وہی کام کریں گے جو انبیاء سابقین نے کیا۔پس اس جگہ علماء سے مرا درشوتیں کھانے والے علماء نہیں بلکہ ابو بکر عالم ، عمر عالم ، عثمان عالم اور علی عالم مراد ہیں۔چنانچہ جب ادنی ضرورت تھی اللہ تعالیٰ