انوارالعلوم (جلد 15) — Page 10
انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی ہر شخص اپنے لڑکے کو سکول بھیج رہا ہے تو اس انجمن کے معرضِ وجود میں لانے کا کیا فائدہ ہے؟ لیکن اگر وہاں کوئی انجمن ایسی بنے جو یہ کہے کہ فلاں قسم کی تعلیم اپنے بچوں کو نہ دلاؤ بلکہ فلاں قسم کی تعلیم دلاؤ تو چونکہ اس میں ایک نیا پیغام ہوگا اس لئے اگر وہ تحریک مفید ہوگی تو اُسے پیش کرنے والی انجمن مقبول اور کامیاب ہو سکے گی۔غرض وہی تحریکات دنیا میں کامیاب ہوا کرتی ہیں جن میں کوئی ایسی چیز دنیا کے سامنے پیش کی گئی ہو جو اُس وقت دنیا کی نگاہ سے اوجھل ہو یا بالکل نئی ہو۔اس امر کو یورپ والے پیغام کا نام دیتے ہیں۔میں جب یورپ گیا تو عام طور پر مجھ سے یہی سوال کیا جاتا تھا کہ احمدیت کا پیغام دنیا کے نام کیا ہے یعنی احمدیت کے وہ کون سے اصول ہیں یا احمدیت کی تعلیم میں وہ کونسی بات ہے جو دنیا کو معلوم نہ تھی اور احمدیت اُسے پیش کرتی ہے یا جس کی طرف دنیا کو پوری توجہ نہیں اور وہ اس کی طرف توجہ دلانا چاہتی ہے؟ قرآن کریم بھی اس اصل کو تسلیم کرتا ہے اور فرماتا ہے۔فَامَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاء وَاَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ ، كَذلِكَ يَضْرِبُ الله الامثال کے کہ جھاگ اور میل چونکہ بے فائدہ چیزیں ہیں وہ اُٹھا کر پھینک دی جاتی ہیں۔مگر جو چیز لوگوں کو فائدہ پہنچانے والی ہو جیسے پانی ہے وہ دنیا میں قائم رہتی ہے۔كَذَلِكَ يَضْرِبُ الله الامثال اللہ تعالیٰ اسی طرح حقائق لوگوں کے سامنے بیان کیا کرتا ہے۔مأموریت کا مدعی جو اپنے دعوئی میں اسی آیت سے استنباط کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کامیاب ہو جائے کبھی جھوٹا نہیں ہوتا نے یہ اول پیش کیا ہے کہ ہرمردی جس کا دعوی دنیا میں مانا جا کر مدتوں تک قو میں اس کی تعلیم پر عمل کرتی چلی گئی ہوں یقیناً خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔بعض نا واقف اور جاہل مولوی کہا کرتے ہیں کہ آپ نے یہ اصل کہاں سے اخذ کیا ؟ ایسے لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے صرف اعتراض کر دیتے ہیں حالانکہ مذکورہ بالا آیت اور اور کئی آیات سے یہ اصل مستنبط ہوتا اور قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ ہرایسا مذ ہب جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہونے کا دعویٰ کرے اور پھر سینکڑوں سال تک دنیا میں قائم رہے اور ہزاروں انسانوں کو