انوارالعلوم (جلد 15) — Page 301
انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) کرتے رہو گے تو خدا تک کب پہنچو گے۔وہ لا جواب ہو کر خاموش ہو گیا۔اس پر اُس بزرگ نے کہا کہ اچھا یہ تو بتاؤ اگر تم اپنے کسی دوست سے ملنے جاؤ اور اُس نے ایک کتا بطور پہرہ دار رکھا ہوا ہو، اور جب تم اس کے دروازہ پر پہنچنے لگو تو وہ تمہاری ایڑی پکڑ لے تو تم کیا کرو گے؟ وہ کہنے لگا گتے کو مارونگا اور کیا کرونگا۔وہ کہنے لگے فرض کرو تم نے اُسے مارا اور وہ ہٹ گیا، لیکن اگر دوبارہ تم نے اُس دوست سے ملنے کیلئے اپنا قدم آگے بڑھایا اور پھر اُس نے تمہیں آ پکڑا تو کیا کرو گے؟ وہ کہنے لگا میں پھر ڈنڈا اُٹھاؤ نگا اور اُسے ماروں گا انہوں نے کہا اچھا تیسری بار پھر وہ تم پر حملہ آور ہو گیا تو تم کیا کرو گے؟ وہ کہنے لگا اگر وہ کسی طرح باز نہ آیا تو میں اپنے دوست کو آواز دونگا کہ ذرا باہر نکلنا یہ تمہارا گتا مجھے آگے بڑھنے نہیں دیتا اسے سنبھال لو۔وہ کہنے لگے بس یہی گر شیطان کے مقابلہ میں بھی اختیار کرنا اور جب تم اس کی تدابیر سے بیچ نہ سکو تو خدا سے یہی کہنا کہ وہ اپنے گتے کو روکے اور تمہیں اپنے قرب میں بڑھنے دے یہی نسخہ اللہ تعالیٰ نے اس جگہ بیان کیا ہے وہ فرماتا ہے۔الا ان اولیاء اللولا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ - اے بڑی بڑی رصد گا ہیں اور جنتر منتر بنانے والو ! تم ستاروں کی گردش سے ڈر کر جنتر منتر کی پناہ کیوں ڈھونڈتے ہو ، تم اُس کا ہاتھ کیوں نہیں پکڑ لیتے جس کے قبضہ قدرت میں یہ تمام چیزیں ہیں۔اگر تم اُس سے دوستی لگا لو تو تمہیں اِن چیزوں کا کوئی خطرہ نہ رہے اور ہر تباہی اور مصیبت سے بچے رہو۔یہ علاج ہے جو قرآن کریم نے بتایا ہے۔رصد گا ہوں اور جنتر منتر کا علاج تو بالکل ظنی ہے مگر یہ وہ علاج ہے جو قطعی اور یقینی ہے۔قرآنی رصد گاہ سے علم غیب کی دریافت دوسری بات جس کی وجہ سے لوگ ستاروں کی طرف توجہ کرتے ہیں علم غیب کی دریافت ہے سو یہ بات بھی حقیقی طور پر قرآنی رصد گاہ سے ہی حاصل ہوتی ہے باقی سب ڈھکو سلے ہیں ، چنانچہ میں نے دیکھا کہ اس رصد گاہ کے قوانین میں لکھا ہوا تھا۔قُل لا يعلم من في السموتِ وَالْأَرْضِ الغيب إلّا اللهُ وَمَا يَشْعُرُونَ آيَان يُبْعَثُونَ - بَل ار له في الآخرة تدبَلْ هُمْ فِي شَكٍّ مِنْهَا بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمون الا فرماتا ہے زمین و آسمان میں سوائے خدا کے اور کوئی غیب نہیں جانتا۔یعنی مصفی علم غیب صرف خدا تعالیٰ کو ہے اور یہ لوگ جوستاروں کے پرستار ہیں اور انہیں دیکھ کر غیب کی خبریں بتانے کے دعویدار ہیں یہ تو اپنی ترقی کا زمانہ بھی نہیں بتا سکتے اور اتنی