انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 302 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 302

انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) بات بھی نہیں جانتے کہ ان کی قوم کب ترقی کریگی۔یہ برابر تباہ ہوتے جارہے ہیں مگر نہیں جانتے کہ ان کی تباہی کب دُور ہوگی۔اس کے مقابلہ میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو پہلے اکیلا تھا آج بہتوں کا سردار بنا ہوا ہے اگر انہیں ستاروں سے علم غیب حاصل ہو سکتا ہے تو کیوں یہ اپنی ترقی کا زمانہ نہیں بتا سکتے اور کیوں محمد ﷺ کی ترقی کو جو ستاروں سے علم غیب حاصل کرنے کا قائل نہیں ؟ روک نہیں دیتے ؟ جب یہ اپنی ترقی کا زمانہ بھی نہیں بتا سکتے تو انہوں نے اور کونسی غیب کی خبر بتانی ہے۔پھر فرمایا یہ تو دنیا کی بات ہے بیل الر عِلْمُهُمْ فِي الْآخِرَةِ - بَعْدَ الْمَوْتِ کی حالت کے متعلق یہ علم سے بالکل خالی ہیں اور حق بات تو یہ ہے کہ یہ اندھوں کی طرح تخمینے کرتے ہیں جو کبھی غلطی کرتا اور کبھی ٹھیک راستہ پر چلتا ہے۔جس طرح اندھے کے ہاتھ کبھی لکڑی آ جاتی نہ ہے اور کبھی سانپ ، اسی طرح ان کو بھی کبھی کوئی ایک آدھ بات درست معلوم ہو جاتی ہے اور کبھی حق سے دُور باتوں کو سچ سمجھ کر یہ پکڑ لیتے ہیں۔جب مجھے یہ آیت معلوم ہوئی تو میں نے کہا کہ اگر مصفی علم غیب صرف خدا تعالیٰ کے پاس ہی ہے تو ہمیں اس کا کیا فائدہ ہوا؟ انکل پیچو والے ک تو پھر بھی کبھی لکڑی مل جاتی ہے مگر ہم تو اس طرح انکل پچھ والے فائدہ سے بھی محروم ہو گئے۔اس پر میں نے دیکھا کہ قرآن نے میرے اس طبہ کا بھی جواب دے دیا اور اس نے فرمایا۔علمُ الْغَيْبِ فَلا يُظهِرُ عَلَى غَيْبِمَ أَحَدًا - إِلَّا مَنِ ارْتَضَى من رسول ۱۲ کہ ہم نے یہ علم غیب صرف اپنے پاس ہی نہیں رکھا بلکہ ہم کبھی اپنے بندوں کو اس غیب سے مطلع بھی کر دیا کرتے ہیں مگر انہی کو جن کو ہم چُن لیتے ہیں، ہر کس و ناکس کو غیب کی خبریں نہیں بتاتے۔پھر میں نے کہا کہ غلبہ غیب کا بیشک نبیوں کو ہی حاصل ہو مگر عام انسانوں کو بھی تو کبھی علم غیب کی ضرورت ہوتی ہے کیا ان کیلئے بھی کوئی راہ ہے؟ اس پر مجھے جواب ملا کہ ہاں۔ان الذين قَالُوا رَبُّنَا اللهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزِّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَيعَةُ الا تَخَافُوا وَ لا تَحْزَنُوا وَ ابْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ نَحْنُ اوْلِيَؤُكُم في الحلوة الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي انْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَعُونَ - نُزُلًا مِّن غَفُورٍ رَّحِيمٍ - ٣ وہ لوگ جنہوں نے یہ کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر انہوں نے لوگوں کی مخالفت کی پروا نہ کی بلکہ استقامت سے سچے مذہب پر قائم رہے اُن پر اللہ تعالیٰ کے فرشتے نازل ہوتے ہیں جو کہتے ہیں