انوارالعلوم (جلد 15) — Page 293
انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) ہو ا تو لوگوں نے حضرت ہارون علیہ السلام پر زور دینا شروع کیا کہ ہمیں ایک بُت بنادو جس کی ہم پرستش کریں۔حضرت ہارون علیہ السلام نے کہا اپنے اپنے گھر سے زیور لے آؤ۔چنانچہ وہ زیور لائے اور انہوں نے اُن زیورات کو ڈھال کر ایک بُت بنا دیا اور کہا کہ یہی وہ تمہارا معبود ہے جو تمہیں مصر کی زمین سے نکال لایا۔یہودی کہتے ہیں کہ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا الہام ہے مگر محققین کہتے ہیں کہ یہ الہام نہیں بلکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دو تین سو سال کے بعد اُس وقت کے حالات ہیں جو مؤرخین نے لکھے۔بہر حال کم سے کم یہ حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کے قریب زمانہ کی لکھی ہوئی تاریخ ہے لیکن حضرت موسیٰ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان ساڑھے انیس سو سال کا فاصلہ ہے اور یہ کتاب جس میں حضرت ہارون علیہ السلام پر بُت گرمی کا الزام لگایا گیا قریباً سترہ اٹھارہ سو سال پہلے کی لکھی ہوئی ہے پس وہ کتاب جو قرآن مجید سے سترہ اٹھارہ سو سال پہلے لکھی گئی ، اُس میں تو یہ لکھا ہے کہ حضرت ہارون نے زیورات کو ڈھال کر خود ایک بچھڑا بنایا اور لوگوں سے کہا کہ یہی وہ تمہارا خدا ہے جو تمہیں مصر کے ملک سے نکال لایا، مگر جب ہم قرآنی آثار قدیمہ کو دیکھتے ہیں تو وہاں یہ لکھا ہوا پاتے ہیں کہ ولقد قَالَ لَهُمْ هُرُوتُ مِنْ قَبْلُ يقوم إِنَّمَا فُيَنْتُمْ بِه وان ربِّكُمُ الرَّحْمَنُ فَاتَّبِعُونِي وَاطِيْعُوا امْرِي ۵۳ کہ موسیٰ کے جانے کے بعد جب لوگوں نے ایک بچھڑا ڈھال کر اُسے اپنا معبود بنا لیا تو ہارون نے اُن سے کہا کہ اے لوگو! بد معاشوں نے تمہیں دھوکا میں ڈال دیا ہے اِن ربِّكُمُ الرَّحْمنُ تمہارا رب تو وہ ہے جو رحمن ہے جو زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے فاتبعوني پس تم میری اتباع کرو اُن بدمعاشوں کی اتباع نہ کرو جنہوں نے تم کو غلط راستہ پر ڈال دیا ہے۔یہ وہ چیز ہے جو مجھے قرآنی آثار قدیمہ میں سے ملی۔اس کے بعد میں نے بائبل کو بھی دیکھا کہ اس کی چوری کہیں سے پکڑی بھی جاتی ہے یا نہیں۔ظاہر ہے کہ اگر حضرت ہارون علیہ السلام سے یہ مشرکانہ فعل سرزد ہو ا ہوتا تو نبوت تو کیا انہیں ایمان سے بھی چھٹی مل جاتی اور کوئی شخص انہیں مؤمن سمجھنے کے لئے بھی تیار نہ ہوتا کجا یہ کہ انہیں نبی مانتا۔مگر جب ہم بائبل کو دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پہاڑ سے واپس آ کر جب دیکھا کہ لوگوں نے بچھڑے کی پرستش شروع کر دی ہے تو انہوں نے لوگوں کو سخت ڈانٹا۔بچھڑے کو آگ سے جلا دیا اور قریباً تین ہزار آدمیوں کو قتل کی سزا دی۔۵۴ اس فتنہ کو فرو کرنے کے بعد وہ پھر پہاڑ پر گئے اور جب وہاں سے واپس آئے تو