انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 273 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 273

انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) جب صلح کے لئے کہا جاتا ہے تو وہ کہتا ہے میں اس سے صلح کرنا کسی صورت میں برداشت نہیں کر سکتا۔میں تو ایک لفظ بھی سننا نہیں چاہتا۔وہ ناری طبیعت ہوتا ہے اور اسی طبیعت کے اقتضاء کے ما تحت اس قسم کے الفاظ اپنی زبان پر لاتا ہے لیکن دوسرا جس کی طینی طبیعت ہوتی ہے وہ کہتا ہے کہ میں تو ہر وقت صلح کے لئے تیار ہوں۔گویا جس طرح گیلی مٹی کو جس سانچے میں چاہو ڈھال لواسی طرح اس سے جو کام چاہو لے سکتے ہو تو خلقتني من نار کے یہ معنے ہیں کہ میں کسی کی بات ماننے کے لئے تیار نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ جب انسانی نسل ترقی کرتے کرتے ایک ایسے مقام پر پہنچی کہ اس میں مادہ تعاون و تمدن پیدا ہو گیا اور اس میں یہ طاقت پیدا ہوگئی کہ وہ دوسرے کی اطاعت کا جوا اپنی گردن پر اُٹھائے تو خدا تعالیٰ نے ان میں سے ایک بہترین آدمی کا انتخاب کر کے اُس پر اپنا الہام نازل کیا اور اُسے کہا کہ اب نظام اور تمدن کی ترقی ہونی چاہئے اور انسانوں کو غاروں میں سے نکل کر سطح زمین پر مل جل کر رہنا چاہئے۔آدم کی مخالفت جس وقت آدم کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا ہو گا کہ غاروں کو چھوڑ و اور باہر نکلو تو ہر شخص یہ سمجھ سکتا ہے کہ اُس وقت کس قدر عظیم الشان شور برپا ہوا ہو گا۔لوگ کہتے ہیں یہ پاگل ہو گیا ہے ،سٹھیا گیا ہے، اس کی عقل جاتی رہی ہے یہ ہمیں غاروں سے نکال کر سطح زمین پر بسانا چاہتا ہے اور اس کا منشاء یہ ہے کہ ہمیں شیر کھا جائیں ، چیتے پھاڑ جائیں اور ہم اپنی زندگی کو تباہ کر لیں اور اپنے جیسے دوسرے آدمیوں کے غلام بن کر رہیں۔مگر بہر حال کچھ لوگ آدم کے ساتھ ہو گئے اور کچھ مخالف رہے۔جو آدم کے ساتھ ہو گئے وہ طینی طبیعت کے تھے اور جنہوں نے مخالفت کی وہ ناری طبیعت کے تھے۔طین کے معنے ہیں جو دوسری شے کے نقش کو قبول کر لے۔پس آدم کی طبیعت طین والی ہوگئی تھی یعنی وہ نظام کے ماتحت دوسرے کی بات مان سکتا تھا جو فریق اس اطاعت اور فرمانبرداری کے لئے تیار نہ تھا اس نے اس کی فرمانبرداری سے انکار کیا اور کہا کہ ہم اعلیٰ ہیں ہم ایسی غلطی نہیں کر سکتے ، یہ تو غلامی کی ایک راہ نکالتا ہے۔یہ وہی جھگڑا ہے جو آج تک چلا آ رہا ہے۔موجودہ زمانہ کے ناری طبیعت انسان آج دنیا متمدن ہے، آج دنیا مہذب ہے، آج دنیا مل جل کر رہتی ہے مگر آج بھی ناری طبیعت کے لوگ پائے جاتے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم دوسرے کی کیوں اطاعت کریں۔یہی ناری طبیعت والے پیغامی تھے جو حضرت خلیفہ اول کی ہمیشہ مخالفت کرتے رہے اور یہی ناری طبیعت