انوارالعلوم (جلد 15) — Page 226
انوار العلوم جلد ۱۵ بانی عسلسلہ احمدیہ کوئی نیا دین نہیں لائے بالفاظ دیگر دنیا کو پیٹھ دکھا دی۔اب وہ شخص جو دنیا کو پیٹھ دکھا چکا ہے اور جس نے اپنے زمانہ کا کام بھی پورا نہیں کیا وہ رسول کریم ﷺ کی امت کا کیا کام کرے گا اور کس کامیابی کی اس سے توقع رکھی جا سکتی ہے۔پس یہ اللہ تعالیٰ کی شدید تک ہے اور اس عقیدہ کو تسلیم کرنے سے اللہ تعالیٰ کی قدرت پر بہت بڑا حرف آتا ہے اور کہنا پڑتا ہے کہ نَعُوذُ بِاللهِ خدا قادر نہیں اور ضرورت پر وہ امت محمدیہ میں سے کسی نئے آدمی کو تیار نہیں کر سکتا۔پھر نہ صرف اللہ تعالیٰ کی قدرت پر اس سے حرف آتا ہے بلکہ اس کے علم پر بھی حرف آتا ہے کہ وہ شخص جو میدان مقابلہ میں بالکل کام ہی نہ کر سکا اسی کے سپر د امت محمدیہ کی اصلاح کا کام اس نے کر دیا۔مگر تعجب ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام سے تو اللہ تعالیٰ کا یہ سلوک ہوا اور ادھر رسول کریم ﷺ سے یہ سلوک ہو کہ آپ پر خطر ناک سے خطر ناک مواقع آئے مگر ایک دفعہ بھی خدا تعالیٰ نے آپ کو آسمان پر نہ اُٹھایا۔حنین کی جنگ میں جبکہ چار ہزار مشاق تیر انداز آپ پر تیروں کی بارش برسا رہا تھا اور رسول کریم لے کے گرد صرف بارہ آدمی رہ گئے تھے اس وقت صحابہ آپ کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں یارسول اللہ ! یہاں کھڑے رہنے کا موقع نہیں ، آپ کی زندگی کے ساتھ اسلام کی زندگی وابستہ ہے ، آپ کسی محفوظ مقام میں چلیں جب دشمن کے حملہ کا زور ٹوٹ جائے گا تو ہم پھر اسلامی لشکر کو جمع کر کے اس پر حملہ کر دیں گے۔چنانچہ بعض صحابہ اسی جوش میں آپ کے گھوڑے کی باگ پکڑ لیتے ہیں مگر رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں چھوڑ دو میرے گھوڑے کی باگ کو اَنَا النَّبِيُّ لَا الله گذب سے میں نبی ہوں جھوٹا نہیں ہوں۔خدا اس نبی کو تو موت دے دے اور اسے وفات دے کر مٹی میں دفن ہونے دے مگر حضرت عیسی علیہ السلام ابھی صلیب پر بھی نہ چڑھے ہوں کہ خدا آپ کو بچانے کیلئے آسمان پر اٹھا لے۔اس عقیدہ کو کوئی با غیرت مسلمان برداشت نہیں کر سکتا۔اگر کوئی نبی زندہ رکھنے کے قابل تھا تو وہ حضرت رسول کریم ع یہ ہی تھے مگر ان کو تو خدا تعالیٰ بچاتا نہیں اور وہ جان دینے کیلئے بھی تیار ہو جاتے ہیں لیکن حضرت عیسی علیہ السلام کو جھٹ بچالیتا اور آسمان پر اٹھا لیتا ہے۔پھر یہ بھی تو دیکھنا چاہئے کہ حضرت عیسی علیہ السلام پر ابتلاء کیا آیا اور اگر آیا تھا تو انہیں چاہئے تھا کہ اسے برداشت کرتے مگر بجائے اس کے کہ وہ خوشی کے ساتھ اس ابتلاء کو برداشت کرتے جھٹ دعا کرنے لگ گئے۔حتی کہ بائیل میں لکھا ہے انہوں نے ساری رات دعا کرنے میں گزار دی اور وہ بار بار اپنے حواریوں کو جگاتے اور کہتے کہ دعا کیوں نہیں کرتے کہ یہ