انوارالعلوم (جلد 15) — Page 165
انوار العلوم جلد ۱۵ احباب جماعت اور اپنی اولاد سے ایک اہم خطاب فرد پر ذمہ داریاں رکھی ہیں وہاں قوم پر بھی ذمہ واریاں رکھی ہیں۔جس طرح کسی فرد کا حق نہیں کہ وہ اپنی ذمہ واریوں کی پرواہ نہ کرے اسی طرح قوم کا بھی حق نہیں کہ وہ اپنی ذمہ واریوں کی پرواہ نہ کرے۔قوم کے فرد کو یہ حق حاصل نہیں کہ اس کے دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ قوم نے میری قربانیوں کی پرواہ نہیں کی اور اگر وہ یہ خیال اپنے دل میں لایا ہے تو دوسرے الفاظ میں وہ یہ کہتا ہے کہ میں نے تمہارے لئے یہ کام کیا ہے خدا تعالیٰ کے لئے نہیں کیا پس فرد کے دل کے کسی گوشہ میں بھی یہ خیال نہیں ہونا چاہئے اور نہ فکر کے کسی حصہ میں کہ قوم نے میری قربانیوں کی پر واہ نہیں کی یا جیسا کہ میری خدمت کرنے کا حق تھا وہ اس نے ادا نہیں کیا ایسا آدمی اپنے کئے کرائے پر خود پانی پھیر دیتا ہے۔مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرد پر ذمہ داریاں عائد کی ہیں اسی طرح قوم پر بھی ذمہ داریاں رکھی ہیں اور وہ یہ کہ قوم اس فرد کی خدمات اور قربانیوں کی قدر کرے کیونکہ قوم بھی ویسے ہی اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہ ہے جیسے فرد۔اسلام نے دونوں کی شخصیتیں تسلیم کی ہیں وہ قوم کی بھی ایک قانونی شخصیت تسلیم کرتا ہے اور فرد کی بھی۔اس زمانہ میں یورپ والے اس قسم کی شخصیتوں کے ثابت کرنے پر بہت نازاں ہیں چنانچہ حال ہی میں مسجد شہید گنج کو ایک قانونی حیثیت میں پیش کیا گیا ہے مگر ان کو معلوم نہیں کہ یہ امر آج سے ساڑھے تیرہ سو سال پہلے اسلام نے پیش کیا تھا یہ وہی امر ہے جسے ہمارے فقہی فرض کفایہ کہتے ہیں۔فرض کفایہ میں قوم کو ایک شخصی حیثیت دی جاتی ہے اگر کسی قوم کے بعض افراد میں خوبی ہو تو وہ خوبی اس قوم کی طرف منسوب ہوتی ہے اور اگر کسی قوم کے افراد میں کوئی عیب ہوتا ہے تو وہ عیب اس قوم کی طرف منسوب ہو جاتا ہے۔یہ اس لئے کہ قوم افراد کے مجموعہ کا نام ہے۔مثلاً زید صرف زید کے ہاتھوں یا پاؤں کا نام نہیں بلکہ اس کے اعضاء سر، آنکھیں ، ناک، کان ، منہ، سینہ، پیٹھ اور ٹانگوں کے مجموعہ کا نام ہے۔غرض اسلام نے فرضِ کفایہ میں شخصیت قومی کے وجود کو تسلیم کیا ہے اور اس کی رو سے اسلام نے فرد پر بھی بعض حقوق رکھتے ہیں۔اور قوم پر بھی بعض حقوق رکھے ہیں دوسرے جس طرح فرد ایک قانونی حیثیت رکھتا ہے ویسے ہی قوم بھی ایک قانونی حیثیت رکھتی ہے۔فرد بے شک حقیقی وجود بھی ہے اور قانونی وجود بھی اور اس کے مقابل پر قوم صرف قانونی وجود ہے حقیقی وجود