انوارالعلوم (جلد 15) — Page 166
انوار العلوم جلد ۱۵ احباب جماعت اور اپنی اولاد سے ایک اہم خطاب نہیں مگر اس پر قانونی وجود کے لحاظ سے ویسے ہی حقوق ہیں جیسے قوم کے ایک فرد پر۔اسلام نے بعض امور کے کرنے کا قوم کو حکم دیا ہے اگر قوم کے افراد میں سے بعض نے وہ امور سرانجام دے دیئے تو اس صورت میں ساری قوم بری الذمہ ہو جائے گی اور اگر کوئی فرد بھی وہ کام نہ کرے تو اس صورت میں ساری قوم پکڑی جائے گی۔چنانچہ حدیثوں میں آتا ہے اور قرآن مجید کی آیات سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے کہ جھوٹی قسم کھانے سے ملک برباد ہو جاتا ہے کے حالانکہ جھوٹی قسم کھانے والا صرف ایک فرد ہوتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ یہاں ملک کو قانونی وجود کے لحاظ سے تسلیم کیا گیا ہے قوم کا فرض ہے کہ وہ ایسے لوگوں کی نگرانی کرے اور اگر وہ نگرانی نہیں کرتی تو اس صورت میں گویا وہ اپنے ملک کو آپ تباہی کی طرف لے جاتی ہے۔ہماری شریعت نے بعض مقامات پر قتل یا اسی قسم کے بعض اور جرائم کی سزا جرمانہ کی صورت میں رکھی ہے۔اگر کوئی ان جرائم میں سے کسی کا مرتکب ہو اور وہ جرمانہ ادا نہ کر سکے تو اس صورت میں وہ حجر مانہ سب قوم سے وصول کیا جائے گا عملی طور پر بھی رسول کریم ﷺ نے ایسا کیا ہے کیونکہ فرد کا نقصان قوم کا نقصان ہے اور اسکی تلافی بہر حال کسی طرح ہونی چاہئے۔اگر وہ فرد یہ طاقت نہیں رکھتا کہ وہ اپنے جرم کا بدلہ مُجرمانہ کی صورت میں ادا کرے تو پھر قوم کو اس کا جرمانہ ادا کرنا ہو گا کیونکہ قوم پر ہر فرد کے ایسے افعال کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے اگر قوم اس سے نقصان دلوا سکتی ہے تو دلوادے ورنہ قوم کو اس نقصان کی تلافی کرنی ہوگی۔اگر کوئی شخص جرم کرے اور اس مجرم کے عوض میں اس پر دس ہزار روپیہ جرمانہ کر دیا جائے اور اس کی حیثیت صرف دو ہزار روپے کی ہو تو وہ باقی رقم کہاں سے ادا کرے گا۔اس صورت میں شریعت اس فعل کی ذمہ داری اس کی قوم پر ڈالتی ہے جس کا وہ فرد ہے اس کی قوم باقی روپیہ جمع کر کے اس کے نقصان کی تلافی میں ادا کرے گی۔تو اسلام نے قانونی وجود کو بڑی وضاحت سے تسلیم کیا ہے نادان لوگ کہتے ہیں کہ ہم پر کیا ذمہ داری ہے حالانکہ اسلام نے شخصی وجود کو بھی تسلیم کیا ہے اور قانونی وجود کو بھی تسلیم کیا ہے۔پس جب تک ہماری جماعت کے افراد میں اس کا احساس نہیں ہوتا وہ ان مبلغین کی قربانیوں کا صحیح اندازہ نہیں لگا سکتے یہ کام سب افراد جماعت پر فرض ہے مبلغین اس کام کو بطور فرض کفایہ کرتے ہیں وہ جہاں اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہیں وہاں قوم کی ذمہ داری کو بھی ادا کرتے ہیں۔ہمارے سب مبلغین جو انگلستان ، امریکہ، افریقہ ، عرب اور دیگر ممالک میں تبلیغ کرتے ہیں وہ فرضِ کفایہ ادا کرتے ہیں اور ہماری طرف سے اس ذمہ داری کو جو اللہ تعالیٰ نے ہم پر عائد کی ہے