انوارالعلوم (جلد 15) — Page 41
انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی ہو جائے گی اور چاند اور سورج کو گرہن ایک ہی ماہ میں لگے گا۔اس آخری علامت کے متعلق احادیث میں وضاحت موجود ہے جس سے اس زمانہ کی مزید تعیین ہو جاتی ہے اور وہ یہ حدیث ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مہدی کے لئے ایک ایسا نشان ظاہر ہونے والا ہے کہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے، کسی مأمور من اللہ کے لئے ظاہر نہیں ہوا اور وہ یہ ہے کہ اس کے زمانہ میں رمضان کے مہینہ میں چاند کو گرہن کے ایام کی پہلی تاریخ میں اور سورج کو گرہن کے ایام کی درمیانی تاریخ میں گرہن لگے گا۔اس حدیث کے مضمون کی روشنی میں جب آیات مذکورہ بالا کو دیکھیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان آیات میں مہدی مسعود کا ذکر ہے اور اسی کے زمانہ کو قیامت کا دن قرار دے کر قیامت گبری کے لئے یعنی جب مُردے جی اُٹھیں گے ایک دلیل اور نشان قرار دیا ہے۔جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں قیامت کبری کیلئے قیامت کبری کے دو نشان بیا کریں دونشان بتائے گئے ہیں۔ایک وہ یوم القیامۃ جس میں نظر تیز ہو جائے گی اور چاند اور سورج کو گرہن لگے گا اور دوسرانفس لوامہ نفس لوامہ کی گواہی تو ہر زمانہ میں حاصل ہے اور ہر زمانہ کے لوگ اس سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں لیکن اس خاص یوم القیامۃ کی گواہی سے وہی لوگ فائدہ اُٹھا سکتے ہیں جو آخری زمانہ میں ہوں۔اس واسطے دونوں زمانوں کے لوگوں کے ایمان کی زیادتی کے لئے دونوں قسم کی دلیلیں دی گئیں۔بلکہ اگر گہرا غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورۃ ہے ہی زیادہ تر موجودہ زمانہ کے متعلق۔اور نفس لوامہ کی دلیل بھی زیادہ تر آخری زمانہ کے لوگوں ہی سے تعلق رکھتی ہے کیونکہ اسی زمانہ میں علم النفس نے خاص ترقی کی ہے اور خیر وشر کے مسائل پر نہایت تفصیلی بحثیں انسانی دماغ کی بناوٹ کو مد نظر رکھتے ہوئے ہوئی ہیں اور یہی زمانہ ہے جس میں یہ دلیل زیادہ کارآمد ہوسکتی ہے کہ انسانی دماغ میں ایک حس ہے جو بعض امور کو بُرا اور بعض کو اچھا قرار دیتی ہے۔قطع نظر اس کے کہ کیا اچھا ہے اور کیا بُرا ہے اگر صرف اسی امر کو دیکھا جائے کہ اچھے یا بُرے کا احساس انسانی نفس میں پایا جاتا ہے اور بعض حد بندیوں یا قیود کو وہ ضروری قرار دیتا ہے تو بھی اس امر کو تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ انسان کسی نہ کسی رنگ میں جزاء و سزا کے ساتھ وابستہ ہے جس سے وہ بچ نہیں سکتا۔اور یہ احساس اور اس کا طبعی باعث یوم القیامت اور بعث بعد الموت پر ایک زبر دست شاہد ہے۔اگر کوئی آخری حساب و کتاب نہیں تو طبع انسانی میں انفعال اور کسی اچھی چیز کیلئے خواہ وہ کچھ ہی ہو