انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 40

انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی چکے ہوں گے۔پھر یہ دلیل کس کے ایمان کو نفع دے گی؟ اعتراض تو زندہ لوگوں کو ہے ان کے لئے نفع مند دلیل تو وہی ہو سکتی ہے جو اسی دنیا میں ظاہر ہو۔پس اس جگہ قیامت کے دن سے مراد کوئی ایسی ہی چیز ہونی چاہئے جو اسی دنیا میں ظاہر ہونے والی ہو تا کہ منکرین قیامت پر اس کے ذریعہ سے حُجت بھی ہو اور ان کے ایمان کے لئے بھی اس سے راستہ کھلے۔عالمگیر قیامت کا دن تو اُسی وقت دلیل قرار دیا جا سکتا ہے جبکہ بعض لوگ خود قیامت کے دن اس کے وجود سے انکار کریں۔اُس وقت بیشک یہ دلیل معقول ہوسکتی ہے کہ تم مر کر دوبارہ زندہ ہوئے پھر کس طرح قیامت کا انکار کر سکتے ہو؟ لیکن اس دنیا میں وہ کسی صورت میں بھی دلیل نہیں بن سکتی۔پس جن لوگوں نے اس جگہ مراد قیامت کبری کے معنی لئے ہیں یا تو انہوں نے صرف ایک منفرد آیت کے معنی کر دیئے ہیں اور انکی یہ مراد نہیں کہ سیاق وسباق کو ملا کر بھی اس آیت کے یہ معنی ہیں اور یا پھر سیاق وسباق پر انہوں نے غور نہیں کیا۔حقیقت یہ ہے کہ یہ دنیا کا ہی ایک واقعہ ہے جو قیامت گبری کی دلیل ہے جسے نفس لوامہ کے ساتھ ملا کر جو قیامت بعد از ممات کا دوسرا ثبوت ہے بیان کیا گیا ہے۔دو دلیلیں اس لئے دی گئی ہیں کہ معترضین مختلف زمانوں سے تعلق رکھ سکتے ہیں۔پس ہر ایک زمانہ کے انسان کے لئے دلیل مہیا کر دی گئی تا ہر ایک فائدہ اُٹھا سکے۔مثلاً مکہ والوں کے سامنے قیامت کی دلیل میں نفس لوامہ کو پیش کیا گیا ہے اور آخری زمانہ کے منکرین قیامت کے سامنے آخری زمانہ کے اس واقعہ کو جو قیامتِ گبرای سے مشابہت کی وجہ سے قیامت کہلانے کا مستحق ہے پیش کیا گیا ہے۔چنانچہ اس کا مزید ثبوت اگلی آیات میں مہیا ہے اور وہ ثبوت مندرجہ ذیل آیات ہیں۔فاذا برق البصر وَخَسَفَ القَمَرُ وجمع الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ يَقُولُ الإِنْسَانُ يَوْمَئِذٍ ايْنَ الْمَفَرُّ جب انسانی نظر تیز ہو جائے گی یعنی مشاہدہ سے زیادہ کام لیا جانے لگے گا اور اسرار طبیعیت کا انکشاف کثرت سے ہو گا اور چاند کو گرہن لگے گا اور سورج کو بھی اس فعل میں اس کے ساتھ جمع کر دیا جائے گا۔یعنی چاند گرہن کے بعد اسی ماہ میں سورج کو بھی گرہن لگے گا اُس وقت انسان کہے گا کہ اب میں کہاں بھاگ کر جا سکتا ہوں؟ جیسا کہ عبارت سے ظاہر ہے ان آیات میں ایک ایسے زمانہ کی طرف اشارہ ہے جب انسان خدا سے بھاگ رہا ہو گا یعنی دہریت کی کثرت ہوگی اور قیامت کا انکار زوروں پر ہوگا اور علوم ظاہری ترقی کر رہے ہونگے اور انسانی نظر غوامض قدرت کے معلوم کرنے میں بہت تیز