انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 32

انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی نظام تو صحیح ہو ، صرف لوگوں نے اسے بھلا دیا ہو تو اللہ تعالیٰ اسی پہلے نظام کو بجنسه پھر دنیا میں قائم کر دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ کو یہ دونوں قدرتیں حاصل ہیں۔پھر فرماتا ہے الم تعلم ان الله له ملك السموت والارض کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہم ایسا کیوں کرتے ہیں؟ ہم ایک انقلاب عظیم کے پیدا کرنے کیلئے اور ایک نیا آسمان اور ایک نئی زمین پیدا کرنے کیلئے ایسا کرتے ہیں۔یہ ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے گفا ر کو اس امر کا تو غصہ نہ تھا کہ ان کے خیالات کے خلاف ایک خیال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پیش کرتے ہیں۔انہیں جس بات کا خطرہ تھا اور جس کا تصور کر کے بھی انہیں تکلیف محسوس ہوتی تھی وہ یہی تھی کہ کہیں قرآن کی حکومت قائم نہ ہو جائے۔پس فرمایا۔الم تَعْلَمُ انَّ اللهَ لَهُ مُلْكُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ اے انکار کرنے والو! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ خدا زمین و آسمان کا بادشاہ ہے؟ پس جب اُس نے اس بادشاہت کو ایک نئے اصول پر قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تو اس کے فیصلہ کے پورا ہونے کو کون روک سکتا ہے؟ مذہبی نظام کی مدت عمل غرض قرآن کریم نے مذاہب کے بارہ میں بھی یہ قاعدہ بتایا ہے کہ ہر مذہبی نظام جو قائم کیا جاتا ہے وہ کچھ عرصہ کے بعد یا تو نا قابل عمل ہو جاتا ہے یا لوگ اسے بھول جاتے ہیں۔نا قابل عمل وہ دو طرح ہوتا ہے یا لوگ اس میں ملاوٹ کر دیتے ہیں یا زمانہ کے مطابق اس کی تعلیم نہیں رہتی۔یعنی یا تو یہ ہوتا ہے کہ لوگ اس تعلیم میں تصرف کر دیتے ہیں اور یا پھر تعلیم تو محفوظ ہوتی ہے مگر زمانہ چونکہ ترقی کر جاتا ہے اس لئے وہ قابل عمل نہیں رہتی۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی کا لباس پھٹ جائے اور اسے نیا لباس سلوانے کی ضرورت پیش آئے۔یا بچہ ہو اور اس کا لباس ہو تو اچھا، لیکن قد بڑھ جانے کی وجہ سے اس کے قد پر پہلا لباس درست نہ آتا ہو اور نیا لباس تیار کروانا پڑے۔اسی طرح تعلیم یا تو اس لئے بد لی جاتی ہے کہ وہ خراب ہو جاتی ہے یا اس لئے بد لی جاتی ہے کہ انسانی حالت میں ایسا تغیر آجاتا ہے کہ پہلی تعلیم اس کے مطابق نہیں رہتی اور اللہ تعالیٰ فیصلہ فرماتا ہے کہ اب اس کیلئے دوسری تعلیم کی ضرورت ہے۔یہ جو تعلیم کے خراب ہو جانے کی صورت ہے یہ بھی درحقیقت اسی وقت واقع ہوتی ہے جب وہ تعلیم نا قابل عمل ہو جائے ورنہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ اپنے دین کا خود محافظ ہوتا ہے۔ہاں اس