انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 33

انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی تعلیم کی ضرورت کا زمانہ ختم ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ بندوں سے کہتا ہے کہ اب بیشک اس میں تغیر و تبدل کر لو مجھے پرواہ نہیں۔جیسے گھر میں بعض دفعہ کوئی خراب اور پھٹا پرانا کپڑا ہو اور بچہ اسے پھاڑے تو ہم پر واہ نہیں کرتے اسی طرح مذہب میں قطع و برید کی اجازت اللہ تعالیٰ اُسی وقت دیتا ہے جب زمانہ کو اس تعلیم کی ضرورت نہیں رہتی اور انسان کے حالات نئی تعلیم کا تقاضا کرتے ہیں۔پس اُس وقت اللہ تعالیٰ اُس فرسودہ مذہب کی حفاظت چھوڑ دیتا ہے اور بندوں کو اجازت دے دیتا ہے کہ وہ اس میں تصرف کریں اور اس سے کھیلیں۔انسان یہ سمجھتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی تعلیم سے کھیل رہا ہے حالانکہ خدا اس تعلیم کو زمانہ کے مطابق حال نہ پا کر اسے بندوں کے حوالے کر چکا ہوتا ہے اور اپنی حفاظت کا ہاتھ اس سے اُٹھا چکا ہوتا ہے۔پس فرمایا کہ پیغام الہی کے متعلق دو ہی صورتیں ہیں: (۱) جب وہ نا قابلِ عمل ہو جاتا ہے تو ہم اس سے بہتر تعلیم لاتے ہیں۔بہتر کا لفظ اس لئے استعمال کیا کہ پہلی تعلیم نا قابل عمل ہو چکی ہوتی ہے اور اب اس سے بہتر کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر بہتر کی ضرورت نہ ہوتی تو پہلی تعلیم ہی کافی ہوتی۔اسی حقیقت کے اظہار کیلئے ناتِ بِخَيْرٍ منها کے الفاظ استعمال فرمائے۔(۲) دوسری صورت یہ ہے کہ جب تعلیم تو قابل عمل ہومگر لوگ اس پر عمل ترک کر دیں اور اپنے لئے خود ایسے قواعد تجویز کر لیں جو الہی تعلیم کے مخالف ہوں۔اس حالت میں نئی تعلیم کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ پرانی تعلیم کی حکومت کو از سر نو قائم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے فرمایا آخر مثلما یعنی جب تعلیم اصلی حالت میں موجود ہو صرف لوگوں نے اس پر عمل چھوڑ دیا ہو تو ہم پھر ویسی ہی تعلیم لے آتے ہیں یعنی اسی تعلیم کو دوبارہ قائم کر دیتے ہیں۔مثل کا لفظ خدا تعالیٰ نے اس لئے استعمال کیا ہے تا یہ بتائے کہ پہلی تعلیم چونکہ مر چکی ہوتی ہے اس لئے ہم اس میں نئی زندگی پیدا کرتے ہیں اور اس طرح وہ ایک رنگ میں پہلی تعلیم کا مثل ہوتی ہے۔پس اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ پیغام الہی بھی ایک عرصہ کے بعد : (۱) یا قابل عمل نہیں رہتا۔(۲) یا لوگ اس پر عمل ترک کر دیتے ہیں۔قابل عمل نہ رہنا د وطرح ہوتا ہے :- (۱) لوگ اس میں ملاوٹ کر دیتے ہیں۔