انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 557 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 557

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده دوسرے کی طرف سے اشتہارات بھی نکلتے رہے۔میاں نظام الدین چونکہ مولوی محمد حسین بٹالوی کے بھی دوست تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بھی گہرا تعلق رکھتے تھے اس لئے انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس جھگڑے کو نپٹا نا چاہئے۔انہوں نے اپنے دل میں سمجھا کہ مرزا صاحب نیک آدمی ہیں وہ قرآن کریم کے خلاف تو کوئی بات نہیں کہہ سکتے۔ضرور انہوں نے کوئی ایسی بات کہی ہوگی جسے مولوی محمد حسین بٹالوی سمجھے نہیں اور جوش میں آ کر مخالفت پر آمادہ ہو گئے ہیں ورنہ یہ ہو کس طرح سکتا ہے کہ قرآن سے حیات مسیح ثابت ہو اور مرزا صاحب جیسا نیک اور متقی آدمی قرآن کے خلاف یہ دعوی کر دے کہ حضرت مسیح فوت ہو چکے ہیں۔چنانچہ وہ بڑے جوش سے قادیان آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہنے لگے کہ میں نے سنا ہے آپ کہتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں۔آپ نے فرمایا ہاں میرا یہی دعویٰ ہے۔وہ کہنے لگے کہ اگر قرآن سے یہ ثابت ہو جائے کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ ہیں تو کیا آپ اپنا یہ عقیدہ ترک کر دیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کیوں نہیں۔اگر قرآن سے حیات مسیح ثابت ہو جائے تو میں انہیں زندہ ماننے لگ جاؤں گا۔اس پر وہ بڑے خوش ہوئے اور کہنے لگے میں پہلے ہی کہتا تھا کہ مرزا صاحب بڑے نیک آدمی ہیں وہ قرآن کے خلاف عمداً کوئی بات نہیں کہہ سکتے۔انہیں ضرور کوئی غلط فہمی ہوئی ہے اور اگر اُسے رفع کر دیا جائے تو اُن سے حیات مسیح کا منوا لینا کوئی بڑی بات نہیں۔چنانچہ کہنے لگے اچھا اگر میں ایسی سو آیتیں نکال کر لے آؤں جن سے حیات مسیح ثابت ہوتی ہو تو کیا آپ مان لیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمانے لگے سو چھوڑ آپ ایک آیت ہی ایسی لے آئیں تو میرے لئے وہی کافی ہے۔کہنے لگے اچھا سو نہ سہی پچاس تو ضرور لے آؤں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا میں تو کہہ چکا ہوں کہ میرے لئے ایک آیت بھی کافی ہے سو یا پچاس کا سوال ہی نہیں۔وہ کہنے لگے اچھا یہ بات ہے تو دس آیتیں تو میں ایسی ضرور نکال کر لے آؤں گا جن سے مسیح کی حیات ثابت ہوتی ہو۔چنانچہ وہ سید ھے لاہور پہنچے اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی سے جا کر ملے۔اس دوران میں چونکہ حضرت خلیفہ اول اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی بحث نے بہت طول پکڑ لیا تھا اس لئے تنگ آکر حضرت خلیفہ اول نے اتنا مان لیا کہ قرآن کے علاوہ بخاری سے بھی تائیدی رنگ میں حدیثیں پیش کی جاسکتی ہیں۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اپنی اس فتح پر بڑے خوش تھے اور وہ مسجد میں بیٹھے بڑے زور شور سے لافیں مار رہے تھے کہ میں نے نورالدین کو ایسا رگیدا اور ایسی۔